آئی ٹی سیکٹر کے فروغ کیلئے پانچ سطحی اے آئی اسٹیک پر توجہ دی جائے، ٹیک ماہرین
- پاکستان آج صرف ایپلیکیشنز کی سطح پر مقابلہ کر رہا ہے، جو سب سے زیادہ آٹومیشن کے خطرے میں ہے
ٹیک ماہرین نے آئی ٹی سیکٹر کے زیادہ مضبوط فروغ کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پانچ سطحی اسٹیک پر توجہ دی جائے، جس میں توانائی، چپس، انفراسٹرکچر، ماڈلز اور ایپلیکیشنز شامل ہیں۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ایل اے کنسلٹنگ کارپوریشن کے بانی لیاقت علی نے کہا کہ آئی ٹی صنعت کو ترقی دینے کے لیے ضروری ہے کہ اے آئی اسٹیک کی پانچوں سطحوں میں اوپر کی جانب پیش رفت کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آج صرف ایپلیکیشنز کی سطح پر مقابلہ کر رہا ہے، جو سب سے زیادہ آٹومیشن کے خطرے میں ہے۔ ہدف کے شعبے اسلامی فنانس ٹیکنالوجی، جنوبی ایشیائی ایگریکلچر ٹیکنالوجی، اور اردو زبان پر مبنی اے آئی ہونے چاہئیں۔ ایکسپورٹ اہداف کو امریکی ڈالر میں مقرر کیا جانا چاہیے اور انہیں سہ ماہی بنیادوں پر مانیٹر کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدی آمدن پہلی بار مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ میں 4 ارب ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فری لانسرز کی آمدنی بھی مالی سال 26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران 1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو قومی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار اور عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستان کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔
لیاقت علی کا کہنا تھا کہ لیبر آربیٹریج (کم لاگت والے علاقوں میں کام منتقل کرنے کا اقتصادی عمل) کا دور ختم ہو چکا ہے۔
تحفظاتی حکمت عملی اب پورے پانچ لیئرز پر اپ گریڈ پر مشتمل ہے۔ انرجی لیئر پر ٹیکنالوجی پارکس کو بجلی کی مسلسل دستیابی کی ضمانت معاہدوں میں ہونی چاہیے۔ چپس اور انفراسٹرکچر لیئرز پر پاکستان اکیلا خرید کر داخل نہیں ہو سکتا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ دوطرفہ کمپیوٹ ایکسیس معاہدے ہی حقیقی راستہ ہیں، جہاں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا پروجیکٹ ٹرانسینڈنس مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماڈلز کی سطح پر پاکستان کو اردو زبان کے بڑے ماڈلز خود تیار کرنے چاہئیں، نہ کہ انہیں لائسنس پر لینا چاہیے۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی میں ایسی ترامیم ضروری ہیں جو 12 ماہ کے اندر امریکی ڈالر میں کرنسی ریٹینشن کی اجازت دیں۔
بھارت کے آئی ٹی سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک نے دوسروں کے انفراسٹرکچر، چپس اور ماڈلز پر مبنی لیبر ڈلیوری انڈسٹری قائم کی۔
جب مصنوعی ذہانت نے اس ڈلیوری کو خودکار بنا دیا تو ان کے پاس کوئی اپنا پروپرائٹری لیئر نہیں بچا جس پر وہ زندہ رہ سکیں۔ پاکستان اس انجام سے صرف اسی صورت بچ سکتا ہے جب وہ ماڈلز کی سطح پر خودمختاری حاصل کرے: ایسے فاؤنڈیشن ماڈلز جو اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو پر ٹرینڈ ہوں اور جنہیں کوئی امریکی یا چینی کمپنی ترجیح نہ دے۔
انہوں نے کہا کہ فروری 2026 کا اسلام آباد مصنوعی ذہانت اعلامیہ قومی سطح پر سوفٹ وئیر اے آئی کو ہدف قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق خودمختاری کا مطلب ہے کہ ماڈل ویٹس، ٹریننگ ڈیٹا اور انفراسٹرکچر پاکستان کے اثاثے ہوں جو ڈالر میں برآمدی آمدن پیدا کریں۔
پانچ سالہ پائیدار پالیسی اور مراعاتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے لیکن لیئرز کی ترتیب سب سے اہم ہے: پہلے توانائی، پھر چپس اور انفرااسٹرکچر، پھر ماڈلز اور آخر میں ایپلیکیشنز۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈیٹا سینٹرز کے لیے انرجی مسئلہ حل کیے بغیر مراعات دی گئیں تو وہ غیر فعال عمارتیں بن جائیں گی۔
پاکستان کا گرڈ ڈیٹا سینٹرز کے مطلوبہ معیار کی مسلسل بجلی فراہم نہیں کر سکتا۔ پہلے پارلیمنٹ کے ذریعے ٹیکنالوجی پارکس کے لیے بجلی کا مسئلہ حل کیا جائے، پھر ڈالر پر مبنی انفرااسٹرکچر مراعات دی جائیں۔ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کے تحت اگلے پانچ سال میں 30 فیصد فنڈز اے آئی تحقیق کے لیے مختص کیے جائیں۔
لیاقت علی نے کہا کہ پاکستان کو پانچ سال میں جی ڈی پی کا 1 فیصد ٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر خرچ کرنا چاہیے۔
452 ارب ڈالر کی جی ڈی پی پر یہ سالانہ 4.5 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ پہلے سال میں 300 ملین ڈالر کا ہدف ممکن ہے، اگنائٹ اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے بجٹ کو خلیجی سرمایہ کاری کے ساتھ ری الاٹ کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تمام خرچ صرف ایپلیکیشن لیئر تک محدود نہیں ہونا چاہیے ورنہ برین ڈرین کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب فالکن انجینئرنگ کے چیف ایگزیکٹو اور کمپیوٹر سوسائٹی آف پاکستان کے صدر طاہر محمود چودھری نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 4 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہیں اور 6 لاکھ پیشہ ور افراد پائپ لائن میں ہیں، اس لیے پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، لیکن یہ فیصلہ صرف مضبوط پالیسی، ساختی اصلاحات اور مسلسل جدت ہی کرے گی کہ ملک اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے یا اسے ضائع کر دیتا ہے۔
طاہر محمود چودھری نے کہا کہ پاکستان کا انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر اب قومی معاشی بیانیے میں محض ایک ضمنی نکتہ نہیں رہا — بلکہ یہ تیزی سے مرکزی عنوان بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، جو ڈیجیٹل معیشت کی بنیادی شریان ہے، دو ملین سے کم کنیکشنز سے بڑھ کر پانچ ملین سے زائد تک پہنچ چکی ہے — ایک ایسی تبدیلی جو انتہائی مختصر عرصے میں حاصل ہوئی ہے اور جسے سخت ترین ناقدین بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم اعداد و شمار خواہ کتنے ہی متاثر کن کیوں نہ ہوں، وہ صرف ایک ابتدائی بنیاد ہیں۔ ان اعداد کے پیچھے ایک گہری اسٹریٹجک ضرورت موجود ہے: پاکستان کے پاس 6 لاکھ ٹیکنالوجی پروفیشنلز کی ٹیلنٹ پول موجود ہے — ایک ایسا ہیومن ریسورس ڈیویڈنڈ جو اگر دانشمندی سے استعمال کیا جائے تو ملک کو سالانہ 10 ارب ڈالر آئی ٹی برآمدات کے قومی ہدف تک پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں اور اکیڈیمیا کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس ڈیجیٹل قیادت کے لیے خام مواد موجود ہے یا نہیں — کیونکہ یہ واضح طور پر موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس اسے مستقل کامیابی میں بدلنے کا ادارہ جاتی عزم موجود ہے یا نہیں۔
طاہر محمود چودھری نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ڈیجیٹل شناخت زیادہ تر فری لانسنگ کے طور پر جانی جاتی ہے — ایک قابلِ فخر کامیابی، مگر ناکافی ہدف۔
ان کے مطابق اگلا مرحلہ لازمی طور پر ایک بنیادی تبدیلی کا متقاضی ہے، یعنی ٹاسک بیسڈ کام سے نکل کر ہائی ویلیو سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ نیٹو آرکیٹیکچر کی طرف جانا ہوگا۔ یہ کوئی محض نظری تصورات نہیں بلکہ وہ تجارتی حقیقتیں ہیں جو پہلے ہی 6 کھرب ڈالر کی عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کو دوبارہ تشکیل دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف پرموشن کافی نہیں جب تک بنیادی ڈھانچہ موجود نہ ہو، یہ محض بیانیہ رہ جاتا ہے۔
تین مداخلتیں ناقابلِ گفت و شنید ہیں۔ پہلی، بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ ویز کو قومی اہم انفرااسٹرکچر سمجھا جائے — کیونکہ جو ڈیولپر سرحد پار ادائیگی وصول نہیں کر سکتا وہ عملاً عالمی معیشت سے باہر ہو جاتا ہے۔ دوسری، ملکی انٹرنیٹ رسائی کو شہری علاقوں سے آگے بڑھا کر ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں تک وسعت دی جائے تاکہ وہاں موجود وسیع غیر استعمال شدہ ٹیلنٹ کو فعال کیا جا سکے۔ تیسری، پاکستان کی ٹیکنالوجی ڈپلومیسی کو تیز کیا جائے: حکومتی تجارتی مشنز، دوطرفہ ڈیجیٹل ٹریڈ معاہدے، اور عالمی سطح پر انجینئرنگ ورک فورس کی مارکیٹنگ ریاستی حکمت عملی کا مستقل حصہ ہونی چاہیے — نہ کہ بعد میں سوچا جانے والا معاملہ۔
طاہر محمود چودھری نے کہا کہ یہ بیانیہ کہ بھارت کی آئی ٹی صنعت زوال کا شکار ہے، حقیقت کے مطابق درست نہیں۔
جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے اور جس کا پاکستان کو فوری مطالعہ کرنا چاہیے وہ ایک ساختی ارتقا ہے، نہ کہ تباہی۔ پرانا بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ اور کم لاگت ڈیٹا انٹری ماڈل، جو جنوبی ایشیائی آئی ٹی شناخت کی بنیاد تھے، اب آٹومیشن کے ذریعے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ ناکامی نہیں بلکہ ڈسٹرپشن ہے۔ اور وہ کمپنیاں اور قومیں جو اس تبدیلی میں زندہ رہتی ہیں، وہ وہ ہوتی ہیں جو پہلے ہی اپ اسٹریم جا چکی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 19 فیصد سالانہ ٹیکنالوجی ایکسپورٹس میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی منڈی میں جدید انجینئرنگ کی طلب بہت زیادہ ہے۔ تاہم اگر ہمارا شعبہ اب بھی اسٹاف آگیمنٹیشن اور کم معیار کی کوڈنگ تک محدود رہا اگر ہم اب بھی گھنٹے بیچ رہے ہیں نہ کہ انٹلیکچوئل پراپرٹی تو آٹومیشن اسی طرح ہمارے دروازے پر پہنچے گی جیسے دیگر جگہوں پر پہنچی۔
انہوں نے کہا کہ اس کا حل واضح ہے: پاکستان کو سافٹ ویئر-ایز-ا-سروس مصنوعات، اپنی ملکیتی انٹلیکچوئل پراپرٹی اور جدید آٹومیشن حل کی طرف جانا ہوگا۔ ہماری بقا اور ترقی کا انحصار اس پر نہیں کہ ہماری افرادی قوت کتنی بڑی ہے، بلکہ اس پر ہے کہ وہ کیا تخلیق کرتی ہے۔ طاہر محمود چودھری نے مزید کہا کہ مقامی یونیورسٹیاں ہر سال دسیوں ہزار کمپیوٹر سائنس گریجویٹس تیار کرتی ہیں۔
یہ خوش آئند خبر ہے، مگر پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ایک بڑا حصہ ایسے ٹیکنالوجی لینڈ اسکیپ کے لیے تیار ہو کر آتا ہے جو اب موجود ہی نہیں یعنی وہ آج کے نہیں بلکہ کل کے نہیں بلکہ کل سے پہلے کے اسلوب کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنا صرف تعلیمی اصلاحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی معاشی ایمرجنسی ہے۔
ٹیک ماہر کے مطابق آگے بڑھنے کا راستہ غیر معمولی یا وسیع پیمانے پر بجٹ نہیں بلکہ سرجیکل اور اسٹریٹجک مختص سرمایہ کاری ہے۔
طاہر محمود چودھری کا کہنا تھا کہ عوامی سرمایہ کاری کو تین مخصوص شعبوں میں مرکوز کیا جانا چاہیے جہاں عالمی طلب واضح اور بڑھ رہی ہے: مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، اور بلاک چین ٹیکنالوجی۔ یونیورسٹی نصاب، نیشنل ٹیکنالوجی کونسل کی مضبوط نگرانی میں، صنعت کے ساتھ حقیقی شراکت داری کے تحت دوبارہ ڈیزائن کیا جانا چاہیے نہ کہ اس سے الگ رہ کر۔






















Comments