BR100 Decreased By (-0.83%)
BR30 Decreased By (-1.36%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.79%)
BAFL 61.02 Decreased By ▼ -0.34 (-0.55%)
BIPL 26.79 Decreased By ▼ -0.26 (-0.96%)
BOP 35.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.39%)
CNERGY 8.27 Decreased By ▼ -0.17 (-2.01%)
DFML 20.24 Decreased By ▼ -0.65 (-3.11%)
DGKC 216.79 Decreased By ▼ -2.31 (-1.05%)
FABL 97.14 Decreased By ▼ -0.26 (-0.27%)
FCCL 57.32 Decreased By ▼ -0.75 (-1.29%)
FFL 18.22 Decreased By ▼ -0.15 (-0.82%)
GGL 22.99 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
HBL 299.31 Decreased By ▼ -5.11 (-1.68%)
HUBC 234.88 Increased By ▲ 1.43 (0.61%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.30 (-2.61%)
KEL 8.24 Decreased By ▼ -0.20 (-2.37%)
LOTCHEM 28.80 Increased By ▲ 0.09 (0.31%)
MLCF 101.15 Decreased By ▼ -1.32 (-1.29%)
OGDC 334.70 Decreased By ▼ -2.50 (-0.74%)
PAEL 43.06 Decreased By ▼ -0.67 (-1.53%)
PIBTL 18.11 Decreased By ▼ -0.11 (-0.6%)
PIOC 279.00 Decreased By ▼ -5.69 (-2%)
PPL 246.20 Decreased By ▼ -2.86 (-1.15%)
PRL 36.15 Decreased By ▼ -0.49 (-1.34%)
SNGP 119.80 Increased By ▲ 5.85 (5.13%)
SSGC 31.95 Increased By ▲ 1.32 (4.31%)
TELE 9.08 Decreased By ▼ -0.24 (-2.58%)
TPLP 10.75 Decreased By ▼ -0.29 (-2.63%)
TRG 69.40 Decreased By ▼ -0.44 (-0.63%)
UNITY 11.39 Decreased By ▼ -0.10 (-0.87%)
WTL 1.31 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

قومی اسمبلی کمیٹی نے پی آئی اے طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی تجویز مؤخر کردی

  • اگر فنانس بل 2026 سے یہ مجوزہ استثنیٰ واپس لیا گیا تو پی آئی اے کی نجکاری کا معاہدہ ختم ہو جائے گا، نجکاری کمیشن
شائع June 19, 2026 اپ ڈیٹ June 19, 2026 09:59am

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جمعرات کے روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کو طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد پر صرف سیلز ٹیکس استثنیٰ دینے کی اہم بجٹ تجویز مؤخر کر دی اور حکومت کو ہدایت کی کہ یا تو یہ سہولت تمام ایئرلائنز کو دی جائے یا پھر صرف ایک ایئرلائن کے لیے دی گئی مجوزہ چھوٹ واپس لی جائے۔

تاہم نجکاری کمیشن کے سیکرٹری نے کمیٹی کو واضح طور پر بتایا کہ اگر فنانس بل 2026 سے یہ مجوزہ استثنیٰ واپس لیا گیا تو پی آئی اے کی نجکاری کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ بھی اسی سیلز ٹیکس چھوٹ کی مخالفت کر چکی ہے۔

فنانس بل 2026 کے جائزے کے دوران کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ کمیٹی پی آئی اے کے لیے اجارہ داری جیسی صورتحال پیدا نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت پی آئی اے کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتی، جبکہ دوسری طرف دیگر ایئرلائنز کے ساتھ امتیازی سلوک بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا تو اس رعایت کو واپس لے یا پھر اسے تمام ایئرلائنز کے لیے برابر طور پر نافذ کرے۔

نوید قمر نے مزید کہا کہ ملک میں 3 سے 5 ایئرلائنز کام کر رہی ہیں اور اس استثنیٰ کے بعد دیگر ایئرلائنز پی آئی اے کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی، کیونکہ پی آئی اے کو طیاروں اور پرزہ جات کی خریداری میں نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو جائے گا۔

کمیٹی نے سیکرٹری نجکاری کمیشن کو فوری طور پر طلب کیا اور صورتحال پر وضاحت دینے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں سیکرٹری خزانہ نے نجکاری کمیشن کے حکام کو اجلاس میں طلب کیا، جس پر سیکرٹری نجکاری کمیٹی میں پیش ہوئے اور اپنا مؤقف پیش کیا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ 15 سال کے لیے سیلز ٹیکس استثنیٰ نجکاری معاہدے کے مطابق تجویز کیا گیا ہے، اور اگر یہ واپس لیا گیا تو معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے تکنیکی مذاکرات میں دیگر ایئرلائنز کے لیے بھی رعایت لینے پر بات کر سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ اس استثنیٰ کی منظوری آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد نجکاری کے تناظر میں دی گئی ہے۔

سیکرٹری نجکاری نے وضاحت کی کہ یہ سیلز ٹیکس چھوٹ نجکاری کے سیل/پرچیز معاہدے کا حصہ ہے اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کے دوران متعدد راؤنڈز کے بعد اس پر اتفاق ہوا تھا، جس میں مخصوص اشیاء کی فہرست بھی طے کی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف