قومی اسمبلی کمیٹی نے پی آئی اے طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی تجویز مؤخر کردی
- اگر فنانس بل 2026 سے یہ مجوزہ استثنیٰ واپس لیا گیا تو پی آئی اے کی نجکاری کا معاہدہ ختم ہو جائے گا، نجکاری کمیشن
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جمعرات کے روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کو طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد پر صرف سیلز ٹیکس استثنیٰ دینے کی اہم بجٹ تجویز مؤخر کر دی اور حکومت کو ہدایت کی کہ یا تو یہ سہولت تمام ایئرلائنز کو دی جائے یا پھر صرف ایک ایئرلائن کے لیے دی گئی مجوزہ چھوٹ واپس لی جائے۔
تاہم نجکاری کمیشن کے سیکرٹری نے کمیٹی کو واضح طور پر بتایا کہ اگر فنانس بل 2026 سے یہ مجوزہ استثنیٰ واپس لیا گیا تو پی آئی اے کی نجکاری کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ بھی اسی سیلز ٹیکس چھوٹ کی مخالفت کر چکی ہے۔
فنانس بل 2026 کے جائزے کے دوران کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ کمیٹی پی آئی اے کے لیے اجارہ داری جیسی صورتحال پیدا نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت پی آئی اے کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتی، جبکہ دوسری طرف دیگر ایئرلائنز کے ساتھ امتیازی سلوک بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا تو اس رعایت کو واپس لے یا پھر اسے تمام ایئرلائنز کے لیے برابر طور پر نافذ کرے۔
نوید قمر نے مزید کہا کہ ملک میں 3 سے 5 ایئرلائنز کام کر رہی ہیں اور اس استثنیٰ کے بعد دیگر ایئرلائنز پی آئی اے کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی، کیونکہ پی آئی اے کو طیاروں اور پرزہ جات کی خریداری میں نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو جائے گا۔
کمیٹی نے سیکرٹری نجکاری کمیشن کو فوری طور پر طلب کیا اور صورتحال پر وضاحت دینے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں سیکرٹری خزانہ نے نجکاری کمیشن کے حکام کو اجلاس میں طلب کیا، جس پر سیکرٹری نجکاری کمیٹی میں پیش ہوئے اور اپنا مؤقف پیش کیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ 15 سال کے لیے سیلز ٹیکس استثنیٰ نجکاری معاہدے کے مطابق تجویز کیا گیا ہے، اور اگر یہ واپس لیا گیا تو معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے تکنیکی مذاکرات میں دیگر ایئرلائنز کے لیے بھی رعایت لینے پر بات کر سکتی ہے۔
وزارت خزانہ کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ اس استثنیٰ کی منظوری آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد نجکاری کے تناظر میں دی گئی ہے۔
سیکرٹری نجکاری نے وضاحت کی کہ یہ سیلز ٹیکس چھوٹ نجکاری کے سیل/پرچیز معاہدے کا حصہ ہے اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کے دوران متعدد راؤنڈز کے بعد اس پر اتفاق ہوا تھا، جس میں مخصوص اشیاء کی فہرست بھی طے کی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments