پاکستان میں آج حکمرانی کے سب سے نقصان دہ نقائص میں سے ایک، پالیسی سازوں کے اعلانات اور ان کے عملی اقدامات کے درمیان پایا جانے والا تضاد ہے۔ اکثر اوقات اختیار کیے گئے اقدامات ان اہداف کے برعکس ثابت ہوتے ہیں جن کی وہ عوامی سطح پر حمایت کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے معیشت کو ڈیجیٹل بنانے، قابلِ تجدید توانائی کو وسعت دینے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لیے بلند بانگ منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود بارہا سرکاری اقدامات نے ہی ان اہداف کو کمزور کیا اور ایک ایسی پالیسی سازی کی فضا پیدا کردی جو تضادات کا شکار ہے جہاں ریاست کا ایک بازو ایک مخصوص ہدف مقرر کرتا ہے جبکہ دوسرا اس کے حصول میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے حکومت کا طرزِ عمل اسکی واضح مثال پیش کرتا ہے۔ اگرچہ سرکاری بیانیے میں ڈیجیٹل تبدیلی کو اقتصادی پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا جاتا ہے لیکن اسی دوران حکام ان بنیادی ذرائع پر بھاری ٹیکس عائد کرتے ہیں جو ڈیجیٹل شمولیت کو ممکن بناتے ہیں۔ ٹیلی کام گروپ کی جانب سے تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ موبائل سروسز پر بھاری ٹیکسوں نے ایک ٹیکس ٹریپ پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث رابطے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، موبائل کے استعمال میں کمی آ رہی ہے اور ملک کے وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ایجنڈے کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اُڑان پاکستان جیسے اقدامات جو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے خواہاں ہیں، حقیقی طور پر کیسے پنپ سکتے ہیں؟ اسی طرح ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ بھی جو ڈیجیٹل شناخت اور مربوط عوامی خدمات کے ذریعے ڈیجیٹل معاشرہ اور معیشت قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، اسی کمزور بنیاد پر کھڑا ہے۔ پاکستان کی اے آئی کے انقلاب میں حصہ لینے اور فائیو جی کے بھرپور نفاذ سے مکمل فائدہ اٹھانے کی خواہشات بھی اسی طرح کی ہیں۔ ان تمام عزائم کا انحصار ایک سادہ سی شرط پر ہے: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک سستی رسائی۔
موبائل فونز اور ان کے ذریعے حاصل کی جانے والی خدمات ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای کامرس، آن لائن تعلیم اور مختلف مالیاتی سہولیات تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہیں اور کم آمدن والے گھرانوں کے لیے ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے کا اکثر یہی واحد راستہ ہوتا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق یہ ضروری آلات دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس زدہ اشیاء میں شامل ہیں۔ موبائل خدمات پر مجموعی ٹیکس کا بوجھ 37 فیصد ہے جس میں 19.5 فیصد سیلز ٹیکس، صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی شامل ہے۔ دریں اثنا ٹیلی کام آپریٹرز پر 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس اور منافع پر 10 فیصد سپر ٹیکس لاگو ہے۔ یہ اخراجات بالآخر صارفین پر منتقل کیے جاتے ہیں جس سے موبائل کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور ڈیجیٹل شمولیت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
یہی نمونہ توانائی کے شعبے میں بھی عیاں ہے۔ اگرچہ پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی کو وسعت دینے اور موسمیاتی لچک کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر مسلسل زور دیتے نہیں تھکتے لیکن ایسے اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جو بجلی پیدا کرنے کے لیے فوسل فیولز پر انحصار ختم کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ پاور ڈویژن نے ایک ٹو پارٹ انڈسٹریل ٹیرف پالیسی تجویز کی جو ان صنعتی صارفین پر فکسڈ چارجز میں نمایاں اضافہ کرے گی جو سولر یا دیگر آف گرڈ ذرائع میں سرمایہ کاری کی وجہ سے اپنے منظور شدہ لوڈ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ یہ واضح طور پر آئیڈل کیپیسٹی پیمنٹس (بغیر استعمال ہونے والی بجلی کی ادائیگیوں) کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے اور قومی گرڈ سے صارفین کے انخلا سے ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں گرڈ کے زیادہ استعمال پر کم یونٹ قیمت کے ذریعے انعام دیا جا رہا ہے جبکہ گرڈ پر انحصار کم کرنے والوں کو بھاری فکسڈ چارجز کے ذریعے سزا دی جا رہی ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کا سماجی و اقتصادی مستقبل موسمیاتی لچک پیدا کرنے پر منحصر ہے، شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنے سے موسمیاتی وعدوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیے جانے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف پالیسی سازی کے ڈیزائن تک محدود نہیں بلکہ مختلف اداروں کے الگ تھلگ اندازِ فکر میں بھی پوشیدہ ہے۔ حکومت کے مختلف شعبے وسیع تر قومی اہداف کی پرواہ کیے بغیر اپنے فوری مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں مربوط سوچ کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ پالیسی کے اہداف کو ان مراعات اور فیصلوں میں جھلکنے کے بجائے، جنہیں حکومت تخلیق کرتی ہے، پالیسی سازی محض نعروں اور خانہ پوری کی مشقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جن کا مقصد صرف ترقیاتی فریم ورکس اور ڈونرز کی توقعات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ پالیسی اور اس کے نفاذ میں ہم آہنگی کو فوری طور پر یقینی بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ قومی ترجیحات ہمیشہ ہماری پہنچ سے دور رہیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026






















Comments