چیراٹ پیکیجنگ کا خیبر پختونخوا میں 2.7 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ فعال
- پلانٹ صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کے ذریعے ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے ساتھ اخراجات میں بچت کا باعث بھی بنے گا، نوٹس
چیراٹ پیکیجنگ لمیٹڈ نے بدھ کو بتایا کہ اس نے خیبر پختونخوا کے گدوُن امازئی میں واقع اپنی فیکٹری میں 2.7 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ کامیابی سے نصب اور فعال کر دیا ہے۔
اس حوالے سے کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا۔
لسٹڈ کمپنی کے مطابق یہ اس سے قبل نصب کیے گئے 1 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کے علاوہ ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کے ذریعے ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے ساتھ اخراجات میں بچت کا باعث بھی بنے گا۔
چیراٹ پیکیجنگ لمیٹڈ کو 1989 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا اور یہ کمپنی کاغذ کے تھیلوں (پیپر سیکس)، پولی پروپیلین بیگز اور فلیکسیبل پیکیجنگ مٹیریل کی تیاری، مارکیٹنگ اور فروخت کے کاروبار سے وابستہ ہے۔
کمپنی کے پاس سالانہ 265 ملین کاغذ کے تھیلے اور 195 ملین پولی پروپیلین بیگز بنانے کی پیداواری صلاحیت ہے، یہ کمپنی پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری کو پیکیجنگ مٹیریل فراہم کرنے والی سب سے بڑی سپلائر ہے جس میں کرافٹ پیپر اور پولی پروپیلین گرینولس (دانے) سے تیار کردہ تھیلے شامل ہیں۔
مزید برآں چیراٹ پیکیجنگ لمیٹڈ نے شوگر، کیمیکلز اور دیگر متعلقہ صنعتوں کو پیکیجنگ مٹیریل فراہم کرکے اپنے کاروباری دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔
پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع خصوصاً سولر کی طرف رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو کہ رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں میں یکساں طور پر مقبول ہوچکا ہے۔
شمسی توانائی کے بڑھتے رجحان نے ایندھن کی سپلائی اور بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے دیرینہ خدشات کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے مکمل اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
مارچ میں شائع ہونے والی ایک اسٹڈی کے مطابق 2018 کے آس پاس سولر کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ملک کو اس سال فروری تک تیل اور گیس کی مد میں 12 ارب ڈالر سے زائد کے امپورٹ بل سے بچنے میں مدد دی۔
رینیوایبلز فرسٹ اور سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی متوقع قیمتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ رجحان 2026 کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت کا باعث بن سکتا ہے۔





















Comments