BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)
پاکستان

آزاد کشمیر: جے اے اے سی کے خلاف کریک ڈاؤن، فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید

  • جھڑپوں کے دوران جو سویلین زخمی ہوئے وہ شیلنگ سے ہوئے، سردار وحید
شائع اپ ڈیٹ

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جن میں ایک سب انسپکٹر رینک کا افسر بھی شامل ہے۔

آج نیوز کے مطابق راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے جو رپورٹ دی گئی اس کے مطابق 13 پولیس اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور ان تمام کا تعلق آزاد کشمیر پولیس سے ہے۔

انہوں نے یہ تصدیق بھی کی کہ ان جھڑپوں کے دوران جو سویلین زخمی ہوئے ہیں وہ شیلنگ کی وجہ سے ہوئے ہیں، تاہم اب وہاں پر حالات نارمل ہیں اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں رکی ہوئی ہیں۔

اس کشیدگی کی شروعات اس وقت ہوئی جب حکومت نے جمعہ کی شب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔ گرفتار افراد میں کمیٹی کے سرکردہ رہنما انجم الزماں اور راجہ صہیب جاوید بھی شامل ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو لانگ مارچ اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، انٹرنیٹ معطل ہے اور رینجرز اور ایف سی کی بھاری نفری عدالت عالیہ، اسمبلی اور ایوان صدر جیسے حساس مقامات پر تعینات ہے۔

کالعدم کمیٹی کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔

اس معاملے پر حکومت کی طرف سے دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس پر آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپنی اہم رائے کا اعلان کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ان بارہ نشستوں کے خاتمے یا اس ضمن میں کوئی اور اقدام کرنے کے لیے آئین کے سیکشن تینتیس میں ترمیم ناگزیر ہے اور اس بارے میں ترمیم کا فیصلہ آئندہ ستائیس جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی منتخب قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انتخابات کا انعقاد حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی اختلافات انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آئین میں ترمیم کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ منتخب ایوان میں ہونا چاہیے اور کسی فرد کا اپنے حق کے لیے احتجاج دوسروں کے حقوق سلب کرنے کا باعث نہیں بننا چاہیے، کیونکہ آئین میں تبدیلی کا راستہ ووٹ اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والا منتخب ایوان ہے، سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے آئینی ترامیم نہیں کی جاسکتیں۔

سپریم کورٹ نے احتجاج کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ اس حق کے استعمال کے لیے سڑکوں کی بندش، جس سے عام شہری کی زندگی متاثر ہو یا ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو، اس کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ آئین۔

دوسری جانب، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ گزشتہ برس طے پانے والے معاہدے کی تقریباً تمام شقوں پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور اب احتجاج کی کال دینا بلاجواز ہے۔

انہوں نے مذاکرات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس وزیراعظم کی ہدایت پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے اور ان کے بہت سے مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں جس کے تحت آزاد کشمیر میں بجلی 3 روپے فی یونٹ میں فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے پر بھی سبسڈی دی جارہی ہے۔

طارق فضل چوہدری نے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاملے کا حل تشدد نہیں ہوتا، بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

بارہ نشستوں کے تنازع پر ان کا کہنا تھا کہ اس متعلق سپریم کورٹ کی رائے بھی آچکی ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر اس معاملے میں کچھ نہیں ہوسکتا، کیونکہ موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہوچکی ہے۔

Comments

200 حروف