بجٹ کو متوازن بنانا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فارمل سیکٹر پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کے باوجود ایف بی آر اپنے ریونیو ہدف کو ایک بڑے مارجن سے حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے جبکہ اگلے سال کے اہداف اس سے بھی کہیں زیادہ بلند نظر آ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں اس بات کی کوئی بھی امید تیزی سے دم توڑ رہی ہے کہ حکومت پہلے سے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے کاروباری طبقے اور تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح کو منصفانہ یا کم کرے گی۔
مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے حکومت اس سال 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور آئندہ سال بھی اس حد تک پہنچنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتی بیانیہ اب بھی تبدیل نہیں ہوا: معاشی استحکام ہی اولین ترجیح ہے۔
یہ موجودہ وزیرِاعظم کے تحت پانچواں مسلسل بجٹ ہوگا اور موجودہ وزیر خزانہ کے تحت تیسرا تاہم اس کے باوجود معیشت اب بھی بامعنی استحکام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔
عوام بالخصوص فارمل سیکٹر اور تنخواہ دار طبقے کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہورہا ہے تاہم اب معاشی استحکام کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی تھکن اور بیزاری کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ہم اس مرحلے پر پہنچ رہے ہیں جہاں ماضی کی کئی حکومتیں معیشت میں ترقی کو تیز کرنے کی کوشش میں آئی ایم ایف پروگرام کو ترک کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں، جس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوئے۔
لہٰذا اب ضروری ہے کہ ہم سخت حقیقت کا سامنا کریں کیونکہ وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ حکومت مزید اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی، اسے لازماً نتائج دینا ہوں گے اور وہ نتائج ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی صورت میں آنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ کافی نہیں ہوگا۔
حکومت کو اضافی ریونیو کی ضرورت ہے جب کہ پہلے سے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے شعبوں کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں اہداف اس وقت تک حاصل نہیں کیے جاسکتے جب تک کہ ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں نہ لایا جائے جو اب تک ٹیکس نہیں دے رہے یا اپنی آمدن سے بہت کم ٹیکس دے رہے ہیں۔
جب بھی وفاقی حکومت کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا جاتا ہے تو حکام اکثر یہ کہہ کر خود کو ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے بیشتر شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
یہ ایک کمزور اور سست دلیل ہے، مثال کے طور پر زراعت ہی کو لے لیں۔ اس شعبے کا نصف سے زیادہ حصہ لائیو اسٹاک پر مشتمل ہے جس کے بارے میں ایف بی آر خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ اس کے ٹیکس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس کے باوجود اس سمت میں عملی طور پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ عیدالاضحیٰ ابھی گزری ہے جس کے دوران ملک بھر میں دسیوں ارب روپے مالیت کے مویشیوں کی خرید و فروخت ہوئی لیکن ان لین دین یا فروخت کنندگان کی کمائی ہوئی آمدنی پر کوئی ٹھوس ٹیکس جمع نہیں کیا گیا۔ ہفتے میں دو دنوں کے علاوہ روزانہ ہزاروں جانور ذبح خانوں میں ذبح کرنے کے لیے بیچے جاتے ہیں لیکن ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا۔
ہر سال آسان ٹیکس اسکیموں کے اعلانات کے ذریعے تاجروں اور خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب تک ایسی ایک درجن سے زائد کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن سب ناکام رہیں کیونکہ تاجر اور ریٹیلرز اپنی جگہ سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور ٹیکسوں میں ان کا حصہ اب بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آنے والے بجٹ میں ریٹیلرز کے لیے 25,000 روپے ماہانہ کا مجوزہ فکسڈ ٹیکس کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔
جہاں ایف بی آر بعض شعبوں میں براہِ راست آمدنی کا تعین نہیں کر پاتا، وہاں وہ اکثر فرض کی گئی آمدنی پر ٹیکس لگانے کا سہارا لیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ٹیکس حقیقی منافع کے بجائے مجموعی آمدنی پر وصول کیا جاتا ہے اور بعض معاملات میں ٹیکس کا یہ اصل بوجھ کاروبار کے مجموعی ٹرن اوور کے 15 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
جو نظام ایک قیاسی یا مفروضہ ٹیکس نظام کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ آگے چل کر بتدریج ایک کم از کم ٹیکس نظام میں تبدیل ہو گیا، جو ہر صورت قابلِ ادائیگی ہوتا ہے خواہ کوئی ادارہ منافع کما رہا ہو یا نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک غیر منصفانہ طریقہ کار ہے جو متاثرہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں ایک اور رکاوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔
حکومت کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنے اور ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے ذریعے فارمل سیکٹرکو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو کارپوریٹ یا نان کارپوریٹ بزنسز اور تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کے لیے تین سے پانچ سال کا ایک واضح روڈ میپ پیش کرنا چاہیے اور اگر سپر ٹیکس اور مختلف سرچارجز کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا تو فوری طور پر ان میں مرحلہ وار کمی کا آغاز کرنا چاہیے۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ریونیو کے فرق کو ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر پورا کیا جانا چاہیے جو اس وقت اپنا جائز حصہ ادا نہیں کررہے ہیں۔ اب پرانا طرزِ عمل مزید جاری نہیں رہ سکتا کیونکہ ملک لامحدود مدت تک صرف اسٹیبلائزیشن پالیسیوں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا۔ ترقی کے بغیر استحکام محض ایک سراب ہے۔ لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والے نئے افراد کی بڑی اور بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے بغیر کوئی دیرپا معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments