BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.21%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 56.30 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.65 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 29.08 Decreased By ▼ -0.17 (-0.58%)
CNERGY 12.52 Increased By ▲ 0.13 (1.05%)
DFML 16.46 Decreased By ▼ -0.14 (-0.84%)
DGKC 184.38 Decreased By ▼ -1.14 (-0.61%)
FABL 92.13 Decreased By ▼ -0.54 (-0.58%)
FCCL 52.12 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.14 (0.73%)
HBL 295.76 Decreased By ▼ -4.10 (-1.37%)
HUBC 200.15 Increased By ▲ 0.48 (0.24%)
HUMNL 9.38 Increased By ▲ 0.07 (0.75%)
KEL 6.05 Increased By ▲ 0.09 (1.51%)
LOTCHEM 26.38 Decreased By ▼ -0.22 (-0.83%)
MLCF 90.63 Decreased By ▼ -0.32 (-0.35%)
OGDC 306.12 Decreased By ▼ -2.54 (-0.82%)
PAEL 33.96 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
PIBTL 13.52 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 235.46 Decreased By ▼ -1.15 (-0.49%)
PPL 218.94 Increased By ▲ 0.59 (0.27%)
PRL 93.07 Increased By ▲ 1.95 (2.14%)
SNGP 90.35 Decreased By ▼ -0.89 (-0.98%)
SSGC 23.06 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.38 Increased By ▲ 0.58 (4.92%)
TRG 55.29 Increased By ▲ 0.07 (0.13%)
UNITY 7.73 Increased By ▲ 0.08 (1.05%)
WTL 0.99 Decreased By ▼ -0.01 (-1%)
پاکستان

سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی، احتجاج کی سیاست مسترد

  • مہاجرین کی نشستوں پر حکومت کا موقف برقرار، آئینی ترامیم کے لیے عوامی مینڈیٹ اور پارلیمانی بحث ضروری ہے، صرف احتجاج کافی نہیں،سپریم کورٹ آزاد کشمیر
شائع اپ ڈیٹ

آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر مشاورتی فیصلے نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی ہے اور احتجاج کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق مہاجرین کی یہ 12 نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور ان میں محض کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔عدالتِ عالیہ نے حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی کہ باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مناسب آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت وقت پر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے اور احتجاج یا سیاسی تنازعات کو اس کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے، لیکن سڑکیں بلاک کرنے، دھمکانے اور روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کرنے جیسے اقدامات کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

اعلیٰ عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ کسی ایک فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق غصب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ چنانچہ انتظامیہ پبلک پیس (عوامی امن)، آئینی نظم و نسق اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کی اس رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے فریم ورک کو نمایاں طور پر مضبوط کر دیا ہے۔

Comments

200 حروف