وفاقی حکومت کا گورنر کے تحت خیبر پختونخوا کے امور چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ
- دہشت گردی میں 196 فیصد اضافے اور صوبائی حکومت کے ناکافی تعاون کے باعث نیا سیکریٹریٹ بھی قائم کردیا گیا
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے امور چلانے میں گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کردی ہے، جبکہ صوبے میں نافذ ایمرجنسی کے تحت 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کردیا گیا ہے۔
ان اقدامات کا اعلان وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اتوار کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ فیصلے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کیے گئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی اقدامات کے تحت سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں اور وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور مشیروں کے پاس موجود اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے ہیں۔
مشاورتی کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر، ثمر ہارون بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کونسل صوبے کے انتظامی امور چلانے میں گورنر کی معاونت کرے گی۔ ثناء اللہ ایڈووکیٹ کو خیبر پختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی امور حکومت کے قواعدِ کار 1985 کے تحت چلائے جائیں گے۔ یہ اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوگئے ہیں۔
وزیر قانون نے بتایا کہ گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت 12 حساس اضلاع کے انتظام کے لیے الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جو براہِ راست وفاقی حکومت کو رپورٹ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے میں گورنر کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے ناکافی تعاون کے باعث ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ دو روز تک مذاکرات بھی جاری رہے، تاہم کسی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں، پولیس کی استعداد بڑھانے اور متاثرہ اضلاع کو وسائل فراہم کرنے کی تجاویز پیش کی تھیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران صوبے میں 518 پولیس اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی کابینہ نے صوبے کی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم کو سفارش کی تھی کہ وہ صدر مملکت کو آئینی اقدامات کے لیے مشورہ دیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان اقدامات کی توثیق کے لیے آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاسوں کے علاوہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت پر عسکریت پسند عناصر کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔ یہ الزامات وفاقی حکومت کا مؤقف ہیں۔
























Comments