BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
پاکستان

سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی، احتجاج کی سیاست مسترد

  • مہاجرین کی نشستوں پر حکومت کا موقف برقرار، آئینی ترامیم کے لیے عوامی مینڈیٹ اور پارلیمانی بحث ضروری ہے، صرف احتجاج کافی نہیں،سپریم کورٹ آزاد کشمیر
شائع اپ ڈیٹ

آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر مشاورتی فیصلے نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی ہے اور احتجاج کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق مہاجرین کی یہ 12 نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور ان میں محض کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔عدالتِ عالیہ نے حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی کہ باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مناسب آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت وقت پر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے اور احتجاج یا سیاسی تنازعات کو اس کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے، لیکن سڑکیں بلاک کرنے، دھمکانے اور روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کرنے جیسے اقدامات کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

اعلیٰ عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ کسی ایک فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق غصب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ چنانچہ انتظامیہ پبلک پیس (عوامی امن)، آئینی نظم و نسق اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کی اس رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے فریم ورک کو نمایاں طور پر مضبوط کر دیا ہے۔

Comments

200 حروف