بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
- قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ 2 سے 6 جون تک خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر سمیت شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار رہیں گے، جبکہ اچانک سیلابی ریلوں (فلیش فلڈز) کا بھی امکان ہے
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 2 سے 6 جون تک ملک کے پہاڑی علاقوں کے لیے لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث 2 سے 5 جون کے دوران خیبر پختونخوا، خصوصاً چترال، اپر اور لوئر دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے۔
ادارے نے پیش گوئی کے اس عرصے کے دوران لواری ٹنل، چترال دیر روڈ، وادی سوات کے مختلف راستوں، شاہراہِ قراقرم اور ناران کاغان روڈ کو لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے آزاد جموں و کشمیر میں بھی 2 سے 6 جون تک لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار رہنے سے خبردار کرتے ہوئے شاہی، شاردہ، اٹھمقام اور آڑنگ کیل جانے والی رابطہ سڑکوں کو حساس قرار دیا ہے۔
ادارے کے مطابق بالائی علاقوں میں شدید بارشیں مقامی ندی نالوں میں اچانک سیلابی ریلوں کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے سفر میں مشکلات اور سڑکوں کی بندش کا خدشہ ہے۔
شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ روانگی سے قبل موسمی پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ متعلقہ محکموں اور اداروں کو پیشگی الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ملک بھر میں موسم کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

























Comments