فلسطین، اسرائیل کے معاملے پر پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ، اسحاق ڈار
- فلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہیمی معاہدے پر کوئی لچک نہیں دکھائیں گے، نائب وزیراعظم
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطین اور غزہ پر اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے حوالے سے اسلام آباد کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔
یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ ڈار کا یہ بیان ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے تحت مسلم ممالک پر ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے پر زور دینے کے معاملے پر روبیو کے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی یا نہیں۔
سوال کا جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں اقوامِ متحدہ میں اپنی مصروفیات کے دوران بھی پاکستان کے اسی مؤقف کا اعادہ کیا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطین اور غزہ پر اپنے مؤقف پر مستقل مزاجی سے قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے مؤقف میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے اسرائیل کو لازمی طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب قدم بڑھانا ہوگا۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ واشنگٹن ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس اعتراف کا اظہار امریکی وزیرِ خارجہ کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
انہوں نے ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر خارجہ (امریکی ہم منصب) نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور ایران کے ساتھ ثالثی کی کوششوں کے لیے پاکستان کے مسلسل مثبت کردار پر (پاکستانی) وزیر کا شکریہ ادا کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین نے ایک ایسے ’بامعنی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا جو امریکیوں اور پاکستانیوں دونوں کے لیے تحفظ اور خوشحالی کو فروغ دے۔
بعد ازاں روبیو نے اس حوالے سے ایکس پر ایک پوسٹ بھی شیئر کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگٹ سے منسوب ایک الگ بیان میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ روبیو نے واشنگٹن میں اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ روبیو نے اتوار کو کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کے لیے تعزیت کا اظہار بھی کیا جہاں ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنانے والے خودکش دھماکے میں 10 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ اور (پاکستانی) نائب وزیر اعظم نے ایک ایسے بامعنی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا جو امریکیوں اور پاکستانیوں دونوں کے لیے تحفظ اور خوشحالی کو فروغ دے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ (مارکو) روبیو نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی اور ثالثی کوششوں کا اعتراف کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments