لبنان میں ہر 24 گھنٹے میں 11 بچے جاں بحق یا زخمی ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ
- یونیسف کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں 77 بچے جاں بحق یا زخمی ہوئے
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے جمعہ کو کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لبنان میں اوسطاً ہر 24 گھنٹے میں 11 بچے جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود ملک بھر میں حملوں میں توسیع جاری ہے۔
یونیسف کے مطابق بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں اور دیہات پر شدید اسرائیلی حملے کیے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے علاقے کے ایک بڑے حصے کو نیا ”جنگی زون“ قرار دے دیا۔ اسی دوران بیروت کے جنوبی مضافات میں بھی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
ادارے نے لبنان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سات دنوں میں مجموعی طور پر 77 بچے جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں۔
یونیسف کے مطابق 16 اپریل کو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 55 بچے جاں بحق اور 212 زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پیرس نے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی کا مکمل احترام کریں۔
انہوں نے کہا کہ ”بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بچوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی حفاظت ضروری ہے۔“
واشنگٹن کی جانب سے اعلان کردہ یہ جنگ بندی اس لیے تھی کہ 2 مارچ سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کو روکا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے بھی جمعہ کو کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ سے لبنان کے عوام کے لیے صحت کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے لبنان میں صحت کے مراکز پر مجموعی طور پر 27 حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہوئے۔ ادارے نے مزید بتایا کہ ان حملوں میں مجموعی طور پر 16 اسپتال اور 13 بنیادی صحت مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔

























Comments