بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
- فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک آٹو فیول کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے
بھارت کی سرکاری آئل کمپنیوں نے پیر کے روز 10 دن کے دوران چوتھی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین پر پڑنے والا دباؤ بتایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشت بھارت کے لیے توانائی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک آٹو فیول کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جزوی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور عام طور پر اپنی خام تیل کی تقریباً نصف ضروریات اسی اہم آبی گزرگاہ سے پوری کرتا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اوسطاً دو روپے سے کچھ زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت 99.5 روپے سے بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 95.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ درآمدی اخراجات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے ایندھن کے استعمال پر پابندیاں ضروری ہیں۔
توانائی کے بحران کے پیش نظر بھارت نے مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے روسی خام تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ شپ ٹریکنگ اور درآمدی اعداد و شمار کے مطابق بھارت اس وقت متبادل ذرائع سے تیل حاصل کر رہا ہے۔
بھارت کے وزیر برائے پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے حال ہی میں کہا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو یومیہ 120 ملین ڈالر تک کے نقصانات کا سامنا ہے، تاہم حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں توانائی کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔

























Comments