27 ممالک کراسیس فنڈز تک رسائی کے خواہاں، ورلڈ بینک دستاویز
- ورلڈ بینک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
روئٹرز کی طرف سے دیکھی گئی ایک داخلی دستاویز کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد 27 ممالک نے ایسے کرائسس مالیاتی آلات متعارف کرانے کی طرف پیش رفت کی ہے جن کے ذریعے وہ ورلڈ بینک کے موجودہ پروگراموں سے تیزی سے فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں۔
ورلڈ بینک کی اس دستاویز میں ان ممالک کے نام یا مجموعی طور پر طلب کی جانے والی ممکنہ رقم ظاہر نہیں کی گئی۔ ورلڈ بینک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
دستاویز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد تین ممالک نے نئے مالیاتی آلات کی منظوری دے دی ہے، جبکہ باقی ممالک ابھی اس عمل کو مکمل کر رہے ہیں۔
جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے اور ترقی پذیر ممالک تک اہم کھاد کی ترسیل میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
کینیا اور عراق کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ورلڈ بینک سے فوری مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں کینیا کے لیے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں اور عراق کے لیے تیل کی آمدنی میں بڑی کمی شامل ہے۔
یہ 27 ممالک ان 101 ممالک میں شامل ہیں جنہیں پہلے سے طے شدہ فنانسنگ آلات تک رسائی حاصل ہے، جن میں 54 ممالک نے ریپڈ رسپانس آپشن میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے تحت وہ اپنے غیر جاری شدہ فنڈز کا 10 فیصد تک استعمال کر سکتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ادارے کے کرائسس ٹول کٹ کے ذریعے ممالک پہلے سے مختص فنڈز، موجودہ منصوبوں کے غیر استعمال شدہ حصے اور تیز ادائیگی والے مالیاتی آلات کے ذریعے تقریباً 20 سے 25 ارب ڈالر تک فوری رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اپنے پورٹ فولیو کو دوبارہ ترتیب دے کر چھ ماہ میں یہ رقم 60 ارب ڈالر تک لے جا سکتا ہے، جبکہ طویل مدتی تبدیلیوں کے ذریعے یہ مجموعی رقم تقریباً 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا تھا کہ وہ توقع کرتی ہیں کہ ایک درجن کے قریب ممالک 20 سے 50 ارب ڈالر تک کی فوری مالی امداد کے لیے رجوع کریں گے، تاہم باخبر ذرائع کے مطابق اب تک بہت کم درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ممالک اس وقت انتظار اور مشاہدے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔
بوسٹن یونیورسٹی کے گلوبل ڈویلپمنٹ پالیسی سینٹر کے ڈائریکٹر کیون گیلاگر نے کہا کہ ممالک ورلڈ بینک سے فنڈز لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام عموماً سخت کفایت شعاری کی شرائط کے ساتھ آتے ہیں، جو پہلے سے موجود سماجی بے چینی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جیسا کہ کینیا جیسے ممالک میں دیکھا گیا ہے۔

























Comments