آئندہ بجٹ میں ٹیلی کام سیکٹر کو بڑا ٹیکس ریلیف ملنے کا امکان
- پالیسی ساز فائبر کیبل پر ڈیوٹی کم کرکے 5 فیصد کرنے پر غور کر رہے ہیں
حکومت ملک میں ڈیجیٹل رابطوں کو تیز کرنے اورفائیوجی سروسز کے آغاز کی تیاریوں کے سلسلے میں آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں پاکستان کے ٹیلی کام اور براڈ بینڈ سیکٹر کے لیے اہم ٹیکس ریلیف اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں فائبر آپٹک کیبل پر امپورٹ ڈیوٹی میں بڑی کٹوتی اور انٹرنیٹ خدمات پر عائد ٹیکسوں میں ممکنہ کمی شامل ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق پالیسی سازوں کی جانب سے فائبر آپٹک کیبل کی درآمد پر موجودہ مجموعی ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے ڈھانچے کو تقریباً 60 فیصد سے کم کر کے محض 5 فیصد کے آس پاس لانے کی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام آپریٹرز اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (آئی ایس پیز) کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، تاکہ وہ ملک بھر میں فائبر ٹو دی سائٹ (ایف ٹی ٹی ایف) انفرااسٹرکچر کو تیزی سے وسعت دے سکیں۔
اس کے ساتھ ہی حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے وسیع تر وژن کے تحت صارفین کے لیے براڈ بینڈ کو مزید سستا بنانے کے مقصد سے انٹرنیٹ خدمات پر ٹیکس کم کرنے کے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس وقت انٹرنیٹ صارفین کو 12.5 فیصد وفاقی ودہولڈنگ ٹیکس کے علاوہ تقریباً 19.5 فیصد صوبائی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے صارفین کے لیے انٹرنیٹ کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر اور انٹرنیٹ خدمات پر موجودہ ٹیکس نظام نے براڈ بینڈ کی توسیع کو سست کر دیا ہے اور خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل شمولیت کو محدود کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فائبر آپٹک پر ڈیوٹیز میں مجوزہ کمی کا مقصد انفرااسٹرکچر کی تنصیب کی لاگت کو کم کرنا اور فائبرائزیشن (فائبر نیٹ ورک بچھانے) کے عمل کو تیز کرنا ہے، جسے پاکستان میں اگلی نسل کی فائیو جی خدمات کے کامیاب آغاز کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ٹیلی کام ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بڑے پیمانے پر فائبر نیٹ ورک کی توسیع کے بغیر ملک فائیو جی کنیکٹیویٹی کی تجارتی اور تکنیکی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
بجٹ مشاورت سے واقف حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل خدمات پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے پر غور اس لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ انٹرنیٹ کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے، پاکستان کے آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹرز کی ترقی کو سپورٹ کیا جا سکے اور سستے و تیز ترین انٹرنیٹ تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان مذاکرات سے باخبر ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ سستا براڈ بینڈ اور مضبوط ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر معاشی ترقی اور مستقبل کی عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلے مالی سال 27-2026 کے بجٹ سیشن کے دوران کیے جائیں گے۔
ٹیلی کام انڈسٹری کے نمائندوں نے ان ممکنہ اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امپورٹ ڈیوٹی اور انٹرنیٹ ٹیکسز میں کمی سے براڈ بینڈ انفرااسٹرکچر میں نئی سرمایہ کاری آئے گی، سروس کا معیار بہتر ہوگا اور ملک بھر میں کنیکٹیویٹی کو وسعت ملے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی ترقی پر زیادہ توجہ دی جائے گی کیونکہ پاکستان مستقبل میں اسپیکٹرم کی نیلامی اور کمرشل فائیو جی کے باقاعدہ آغاز کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس معاملے پر وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ڈبلیوآئی ایس پی اے پی) کے چیئرمین شہزاد ارشد نے گفتگو کرتے ہوئے ان ممکنہ پیشرفتوں کو پاکستان کی ٹیلی کام اور انٹرنیٹ انڈسٹری کے لیے ایک انتہائی حوصلہ افزا اور ترقی پسند اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت فائبر آپٹک کیبل پر امپورٹ ڈیوٹی کم کرنے اور انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکسوں میں کٹوتی کے فیصلے پر عمل درآمد کرتی ہے تو اس سے براڈ بینڈ کی توسیع میں نمایاں تیزی آئے گی، عام صارفین کے لیے انٹرنیٹ سستا ہوگا اورفائیو جی سمیت مستقبل کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پالیسی فیصلے ڈیجیٹل پاکستان اقدام کے اہداف کو حاصل کرنے کی جانب ایک بڑی پیشرفت ثابت ہوں گے، جس سے شہری اور دیہی دونوں طبقات کو یکساں طور پر قابلِ اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی تک وسیع رسائی حاصل ہو سکے گی۔

























Comments