پاپا جانز انٹرنیشنل کی خریداری کے لیے پاکستانی نژاد فرنچائز ہولڈر اور ارتھ کیپیٹل کا اشتراک
- پیزا ڈیلیوری بوائے سے 300 ریستورانوں کے مالک بننے والے ندیم باجوہ خریداری کے عمل میں بڑی سرمایہ کاری کریں گے
پیزا ڈیلیوری بوائے سے 300 ریستورانوں کے مالک بننے والے پاکستانی نژاد ندیم باجوہ نے اب پوری کمپنی خریدنے پر نظریں جما لیں۔ سرمایہ کاری فرم ارتھ کیپیٹل کے ساتھ مل کر ندیم باجوہ نے پاپا جانز انٹرنیشنل کو نجی ملکیت میں لینے کے لیے ایک بڑے مالیاتی کھیل کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت وہ اس عالمی پیزا چین میں بھاری سرمایہ کاری کریں گے۔
یہ معلومات ان دو ذرائع نے دیں جنہیں نجی بات چیت پر عوامی سطح پر بحث کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان افراد نے مزید بتایا کہ بورڈ اور انتظامیہ کو حال ہی میں ان کے ارادوں سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ندیم باجوہ کی شمولیت نے پاپا جانز کے سب سے بڑے امریکی آپریٹر اور ارتھ کیپیٹل جیسے بڑے سرمایہ کار کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک فرنچائز ہولڈر کا خریداری کے اس عمل میں کودنا پاپا جانز کی فروخت کے طویل سلسلے میں ایک حیران کن موڑ ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کمپنی کو عوامی سے نجی ملکیت میں منتقل کرنے کے عمل میں مہمیز ثابت ہوگا۔
متعدد چھوٹی ریستوران کمپنیاں جو بڑھتی ہوئی لاگت اور صارفین کے بدلتے ہوئے ذائقوں سے نبرد آزما ہیں گزشتہ سال نجی ملکیت میں چلی گئی ہیں، تاکہ طلب میں کمی کے اس دور میں اپنی حکمت عملیوں کی ازسرِ نو ترتیب کے دوران عوامی مارکیٹوں کی جانچ پڑتال سے بچ سکیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاپا جانز گزشتہ ایک سال سے ممکنہ فروخت کے بارے میں فعال بات چیت کر رہی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق کمپنی ارتھ کی پیشکش کا جائزہ لے رہی ہے۔ تمام ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ کسی معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ندیم باجوہ کے نمائندے سے تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا، جبکہ ارتھ اور کمپنی کے نمائندوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ندیم باجوہ کی دلچسپی نے ارتھ کی جانب سے رواں سال کے اوائل میں کی گئی 47 ڈالر فی شیئر کی پیشکش کو تقویت دی ہے، جو بروک فیلڈ ایسٹ مینجمنٹ کے تعاون سے کی گئی تھی، اس سے قبل 2025 میں اپالو گلوبل مینجمنٹ کے ساتھ مشترکہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ یہ پیشکش جمعرات کو بند ہونے والی قیمت 32.72 ڈالر فی شیئر کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔کنسلٹنگ فرم جیسپر اسٹریٹ کے مینیجنگ پارٹنر پیٹر دا سلوا ونٹ، جو ایکٹیوسٹ سرمایہ کاروں کے دباؤ کا سامنا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں نے کہا کہ ایک فرنچائزی اور بولی دہندہ کے درمیان اس طرح کا تعاون دیکھنا انتہائی غیر معمولی ہے اور اس سے انتظامیہ اور سرمایہ کاروں کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ بروک فیلڈ کے تعاون سے ارتھ کی بولی حقیقی ہے اور اس کمپنی کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔
ندیم باجوہ کی توسیعی کوششیں
تقریباً چار دہائیاں قبل پاکستان سے امریکہ ہجرت کرنے کے بعد سے ندیم باجوہ نے اپنے دو بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر اپنے باجکو گروپ کو ایک پھلتی پھولتی کمپنی بنایا ہے، جس کے مفادات پاپا جانز کے 300 مقامات کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور اکاؤنٹنگ میں بھی ہیں۔
بورڈ مین، اوہائیو میں قائم اس کمپنی نے پہلی بار 2002 میں ایسے دو ریستوران کھولے تھے اور اگلے سال پٹسبرگ کے علاقے میں 10 مزید ریستوران تیار کیے۔
ندیم باجوہ کمپنی کی فرنچائز ایڈوائزری کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی میں خدمات انجام دیتے ہیں، جو انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور وہ پاپا جانز فرنچائز ایسوسی ایشن کے وائس چیئر بھی ہیں، جو کہ کمپنی سے آزاد فرنچائزی مالکان کا ایک گروپ ہے۔ یہ چیز انہیں کمپنی اور اس کے فرنچائزی مالکان کے درمیان بات چیت میں ایک اہم کھلاڑی بناتی ہے۔
شمالی امریکہ میں فروخت میں کمی کی وجہ سے کمپنی کی پہلی سہ ماہی کی آمدنی توقعات سے کم رہی۔ رواں سال شیئرز میں تقریباً 15 فیصد کمی آئی ہے، جو کوئیک سروس ریستورانوں کے اسٹاک کی مجموعی گراوٹ کا حصہ ہے، کیونکہ یہ کمپنیاں اجزاء کی مہنگائی اور لاگت و کیلوریز کے بارے میں محتاط صارفین کا سامنا کر رہی ہیں۔
پیزا ہٹ، جس کی ملکیت یم برانڈز کے پاس ہے وہ بھی خود کو کسی نجی مالک کو فروخت کرنے کے عمل میں ہے، جو کہ 2025 میں پاٹ بیلی اور ڈینی ز جیسی چھوٹی چینز کے نجی ملکیت میں جانے کے معاہدوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ قطری شاہی خاندان کے ایک فرد کے تعاون سے چلنے والی فرم ارتھ پاپا جانز کے تقریباً 10 فیصد کی مالک ہے، جس کا لگ بھگ نصف حصہ ڈیریویٹوز میں ہے۔پاپا جانز کے دنیا بھر میں 6,000 آؤٹ لیٹس ہیں۔

























Comments