متحدہ عرب امارات کے قریب سے بحری جہاز قبضے میں لینے کی اطلاعات
- دو بحری سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ جہاز غالباً ہنڈوراس کے پرچم بردار ہوئی چوان ماہی گیری تحقیقاتی جہاز ہے
برطانوی بحری ایجنسی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ( یوکے ایم ٹی او) نے کہا ہے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے شمال مشرق میں لنگر انداز ایک جہاز پر نامعلوم افراد سوار ہو گئے، جس کے بعد اسے ایرانی علاقائی پانیوں کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔
دو بحری سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ جہاز غالباً ہنڈوراس کے پرچم بردار ہوئی چوان ماہی گیری تحقیقاتی جہاز ہے۔
ذرائع کے مطابق اس جنگ کے دوران، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی، ایران اب تک کم از کم دو دیگر جہاز بھی قبضے میں لے چکا ہے۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن نے جہاز کے سیکیورٹی افسر کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ واقعہ فجیرہ کے شمال مشرق میں 38 بحری میل (70 کلومیٹر) کے فاصلے پر پیش آیا۔
برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کو 0545 جی ایم ٹی پر رپورٹ ہوا۔
وینگارڈ کے مطابق ”کمپنی کے سیکیورٹی افسر نے اطلاع دی کہ لنگر انداز جہاز کو ایرانی اہلکاروں نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”اطلاعات کے مطابق جہاز کو ایرانی علاقائی پانیوں کی جانب لے جایا جا رہا ہے“، اور یہ بھی بتایا کہ جہاز سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور اس نے آٹومیٹڈ آئیڈینٹی فکیشن سسٹم (اے آئی ایس) کے ذریعے اپنی پوزیشن کی ترسیل بھی بند کر دی ہے۔
جہاز کے آپریٹر، جسے شپنگ ڈیٹا بیسز میں مارشل آئی لینڈز میں قائم ایس جی نیویگیشن کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، سے تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔
جہاز کو آخری بار خلیج عمان میں دیکھا گیا تھا، جو 12 مئی کو ایران کے خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کے اندر تھا، یہ معلومات میری ٹائم ٹریکنگ پلیٹ فارم میری ٹائم ٹریفک کے ڈیٹا پر مبنی ہیں۔
واضح رہے کہ خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کسی بھی ملک کے ساحل سے 24 بحری میل (38 کلومیٹر) تک کے علاقے کو کہا جاتا ہے۔

























Comments