پاک چین بی ٹو بی ایونٹ میں 27 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، بیٹری اسٹوریج کا شعبہ سب سے نمایاں
- بیٹری اسٹوریج میں 82 ملین ڈالر کے معاہدے سمیت 50 سے زائد ایم او یوز پاک چین مضبوط اقتصادی تعاون کے عکاس ہیں
لاہور میں منعقدہ پاک چین بی ٹو بی کانفرنس کے دوران انتہائی کامیاب میچ میکنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کی معروف کمپنیوں کے درمیان لاکھوں ڈالرز مالیت کی درجنوں مفاہمتی یادداشتوں (ایم اویوز) پر دستخط ہوئے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق اس کانفرنس میں 74 چینی کمپنیوں کے 105 مندوبین اور پاکستان بھر کے اہم صنعتی و تجارتی شعبوں سے وابستہ 136 کمپنیوں کے 252 نمائندوں نے شرکت کی۔
مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ ہوم اپلائنسز کی صنعت میں 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جن میں سب سے بڑا معاہدہ 40 ملین ڈالر کا تھا۔ الیکٹریکل سیکٹر میں 10 معاہدے طے پائے، جن میں سب سے زیادہ مالیت 60 ملین ڈالر رہی۔
بیٹری اسٹوریج کا شعبہ تعاون کے سب سے بڑے مرکز کے طور پر ابھرا، جہاں 27 ایم او یوز پر دستخط کیے گئے، جن میں سب سے بڑا معاہدہ 82 ملین ڈالر مالیت کا تھا۔ اس کے علاوہ 40 سے زائد مزید مفاہمتی یادداشتوں اور سرمایہ کاری کی تجاویز پر فعال مذاکرات جاری ہیں۔
اس سے قبل صنعت و پیداوار کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعلقات اعتماد، تسلسل اور مشترکہ وژن پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط نئے معاشی راستے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس وزیراعظم کے دورہ چین کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور پاکستانی معیشت پر چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صنعتوں کی بحالی اور برآمدات میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے، جس میں نیشنل انڈسٹریل پالیسی اور نیشنل ٹیرف پالیسی کا نفاذ شامل ہے، تاکہ کاروبار کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ریگولیٹری گیلوٹین اقدام کے تحت کام جاری ہے ،تاکہ پاکستان کو ایک کاروبار دوست معیشت بنایا جا سکے۔
ہارون اختر خان نے بیٹری اسٹوریج سسٹم، ہوم اپلائنسز اور الیکٹریکل آلات کو مستقبل کے کلیدی شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت اور اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کی بدولت مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی پارٹنر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان لیتھیم آئن اور سوڈیم آئن بیٹری ٹیکنالوجیز میں فعال شراکت دار بننے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تعمیر، اختراع اور مقابلے کے لیے تیار ہے، ہمارے دروازے کھلے ہیں اور ہماری سمت واضح ہے۔

























Comments