آبنائے ہرمز بحران کے باوجود آرامکو کے منافع میں 25 فیصد اضافہ
- اس دوران کمپنی کی ایسٹ-ویسٹ خام تیل پائپ لائن مکمل گنجائش کے ساتھ فعال رہی تاکہ سپلائی میں خلل کے اثرات کم کیے جا سکیں
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کے پہلے سہ ماہی کے منافع میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری امریکا-ایران جنگ کے تناؤ اور آبنائے ہرمز میں شپنگ کی رکاوٹوں کے باوجود کمپنی کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران کمپنی کی ایسٹ-ویسٹ خام تیل پائپ لائن مکمل گنجائش کے ساتھ فعال رہی تاکہ سپلائی میں خلل کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
عالمی سطح پر سب سے بڑی تیل برآمد کرنے والی کمپنی نے 31 مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 32.5 ارب ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا، جو ایل ایس ای جی کے 30.95 ارب ڈالر کے اندازے سے زیادہ ہے۔
کمپنی کی مجموعی آمدن گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد بڑھ کر 115.49 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کی وجہ خام تیل اور ریفائنڈ و کیمیکل مصنوعات کی زیادہ قیمتیں اور فروخت بتائی گئی۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں شپنگ پر پابندی کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے بعد سعودی آرامکو نے مشرقی ساحل سے مغربی بندرگاہ ینبع تک تیل کی ترسیل میں اضافہ کر دیا۔
آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے کہا کہ کمپنی کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن، جو روزانہ 70 لاکھ بیرل کی مکمل گنجائش تک پہنچ چکی ہے، ایک اہم سپلائی راستہ ثابت ہوئی ہے جس نے عالمی توانائی بحران کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد توانائی کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مغربی ساحل پر موجود ریفائنریوں کو تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ فراہم کر سکتی ہے جبکہ باقی 50 لاکھ بیرل برآمد کیا جاتا ہے۔
جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث سعودی عرب نے اپنی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی، کیونکہ یہ آبی راستہ پہلے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد حصے کی ترسیل کا ذریعہ تھا۔
آرامکو کا ایڈجسٹڈ سہ ماہی منافع 33.6 ارب ڈالر رہا، جو تجزیہ کاروں کے 31.16 ارب ڈالر کے اندازے سے زیادہ ہے۔ اس میں غیر آپریشنل اکاؤنٹنگ آئٹمز شامل نہیں کیے گئے۔
سرمایہ جاتی اخراجات کم ہو کر 12.1 ارب ڈالر رہ گئے، جبکہ ایک سال پہلے یہ 12.5 ارب ڈالر تھے۔ کمپنی نے سال 2026 کیلئے 50 سے 55 ارب ڈالر کے سرمایہ جاتی اخراجات کا ہدف رکھا ہے۔
آرامکو نے پہلی سہ ماہی کیلئے 21.9 ارب ڈالر کا بنیادی منافع اعلان کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ رقم دوسری سہ ماہی میں ادا کی جائے گی۔
کمپنی نے 2023 میں کارکردگی پر مبنی اضافی ڈیویڈنڈ بھی متعارف کرایا تھا۔
سعودی حکومت، جو کمپنی کا تقریباً 81.5 فیصد حصہ رکھتی ہے، آرامکو کی آمدن پر انحصار کرتی ہے تاکہ ملکی اخراجات اور بجٹ خسارے کو پورا کیا جا سکے، جبکہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے پاس 16 فیصد حصص ہیں۔
کمپنی کا فری کیش فلو 18.6 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال 19.2 ارب ڈالر تھا، جبکہ ورکنگ کیپیٹل میں 15.8 ارب ڈالر کے اضافے کے باعث کمی دیکھی گئی۔ آرامکو کا گیئرنگ لیول (قرض اور ایکویٹی کا تناسب) مارچ کے آخر میں 4.8 فیصد تک بڑھ گیا، جو 2025 کے آخر میں 3.8 فیصد تھا۔

























Comments