پٹرولیم کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کا کیپٹو گیس لیوی میں کمی کا خیرمقدم
- عملی طور پر یہ لیوی صنعتی گیس کے استعمال پر ایک ساختی جرمانہ بن چکی تھی، ابرار خان
پاکستان پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن (پی پی ای پی سی اے) نے وفاقی حکومت کے کیپٹو گیس لیوی میں کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ابرار خان نے بتایا کہ مئی تک کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی 1,303 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، جو صنعتی بجلی کے بی-3 ٹیرف سے منسلک ایک ایسے طریقہ کار پر مبنی تھی جو اب قیمت کے مؤثر اشارے کے طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔
ان کے مطابق عملی طور پر یہ لیوی صنعتی گیس کے استعمال پر ایک ساختی جرمانہ بن چکی تھی، جس نے مؤثر پلانٹس کو بندش کی طرف دھکیل دیا، گیس کی طلب میں کمی کی اور سوئی کمپنیوں کے نقصانات مالی سال کے پہلے نصف میں 104 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔
وزیر پٹرولیم کی جانب سے آئی ایم ایف کے تیسرے جائزے کے دوران باضابطہ تجویز کے بعد اس طریقہ کار کو تبدیل کر کے بی-3 ٹیرف کے پیک اور آف پیک ریٹس کے وزنی اوسط سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
نظرثانی کے بعد لیوی تقریباً 522 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رہ گئی ہے، یعنی ایک ہی اقدام میں تقریباً 60 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ آئندہ ادوار میں یہ ریلیف 30 سے 60 فیصد کے درمیان برقرار رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گیس ایکسپلوریشن اور پروڈکشن سیکٹر کیلئے سابقہ لیوی سرکلر ڈیٹ کے دائرے کو مزید وسیع کر رہی تھی۔ صنعتی طلب گیس نیٹ ورک سے باہر ہو رہی تھی، ملکی پیداوار کے خریدار کم ہو رہے تھے، آر ایل این جی سبسڈی والے استعمال کی طرف منتقل ہو رہی تھی، اور سوئی کمپنیوں کے نقصانات بڑھ کر ای اینڈ پی بیلنس شیٹس میں واجبات بن رہے تھے۔
ان کے مطابق دو سال سے زائد عرصے سے کیپٹو صارفین، خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر جو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، ایسے گیس نرخوں پر کام کر رہے تھے جو انہیں علاقائی منڈیوں میں غیر مسابقتی بنا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور چین میں گیس کی قیمت 6 سے 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان تھی، جبکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو اس سے کہیں زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑ رہی تھی۔ اس صورتحال میں کیپٹو گیس کی کھپت کم ہوئی، آر ایل این جی کے اضافی ذخائر بڑھ گئے اور 18 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدی صنعت دباؤ کا شکار ہو گئی۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے انہوں نے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارتکاری صبر و تحمل، فیصلہ کن اقدامات اور شواہد پر مبنی رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی اصلاحات کسی ایک فرد کی کامیابی نہیں ہوتیں، بلکہ پٹرولیم ڈویژن، وزارت خزانہ اور ریگولیٹری اداروں کی تکنیکی محنت بھی اس میں شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments