حکومت نے ساورن ویلتھ فنڈ بل سینیٹ میں پیش کردیا
- طارق فضل چوہدری نے سینیٹ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے بل پیش کیا
حکومت نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں پاکستان ساورن ویلتھ فنڈ (ترمیمی) بل 2026 پیش کر دیا جس کا مقصد مالیاتی تحفظات متعارف کروانا، گورننس کے ڈھانچے کو بہتر بنانا اور عوامی سطح پر معلومات کی فراہمی اور رپورٹنگ کی شرائط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے یہ بل پیش کیا۔
بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو ریفر (ارسال) کردیا گیا۔
بل کے اغراض و مقاصد کے بیان میں درج ہے کہ پاکستان ساورن ویلتھ فنڈ کا قیام پاکستان ساورن ویلتھ فنڈ ایکٹ 2023 کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان ساورین ویلتھ فنڈ ایکٹ کی دفعہ 4 کے مطابق اس فنڈ کا بنیادی مقصد اپنے فنڈز اور اثاثوں کے انتظام اور بہترین ممکنہ استعمال کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے اور بین الاقوامی بہترین معیار اور پالیسیوں کے مطابق ان کی قدر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے تاکہ انہیں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور مفید بنایا جا سکے۔
بل کے اغراض و مقاصد کے بیان کے مطابق اس ترمیمی بل کا مقصد مالیاتی تحفظات متعارف کروانا، گورننس کے ڈھانچے کو بہتر بنانا اور عوامی سطح پر معلومات کی فراہمی اور رپورٹنگ کی شرائط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان ساورن ویلتھ فنڈ (ترمیمی) بل 2026 کے علاوہ سینیٹ میں مزید پانچ بل پیش کیے گئے، جن میں نیشنل رحمت اللعالمینؐ و خاتم النبیینؐ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026، سینٹر فار سائیکالوجی سینٹرز (ترمیمی) بل 2026، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی (ترمیمی) بل 2026، ایریا اسٹڈی سینٹرز (ترمیمی) بل 2026، اور این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔ یہ تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔
ایوان نے اقبال اکیڈمی (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا، جس کا مقصد اقبال اکیڈمی آرڈیننس 1962 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے الفاظ کو متعلقہ مجاز اتھارٹی سے تبدیل کرنا ہے۔
بعد ازاں سینیٹ اجلاس اس وقت اچانک ختم کردیا گیا جب حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹرز کے درمیان تلخ کلامی اور گرما گرم بحث ہوئی۔
سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر عطا الرحمان نے فلور سنبھالتے ہوئے چارسدہ میں جے یو آئی (ف) کے مولانا ادریس کے حالیہ قتل کے تناظر میں وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سیکیورٹی یقینی بنانے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتیں حکمرانی کا حق کھو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مولانا ادریس کی شہادت پر احتجاج کا اعلان کیا تو آپ نے ہمیں روک دیا۔ آپ ہمیں قتل بھی کرتے ہیں اور پھر رونے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔
مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی نے جے یو آئی (ف) کے سینیٹر پر فوج پر تنقید کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے عطا الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی گھناؤنی دہشت گردی کی مذمت کریں۔
اس دوران لیگی رہنما اور جے یو آئی (ف) کے ایک اور سینیٹر عطا الحق کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
گرما گرمی کے اس ماحول میں سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے اجلاس پیر تک کے لیے ملتوی کر دیا۔
اس سے قبل سینیٹر نسیمہ احسان نے سندھ میں روبینہ چانڈیو کے غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ اٹھایا۔
اجلاس کی صدارت کرنے والی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ملک میں غیرت کے نام پر قتل، زیادتی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے دیگر واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ غیرت کے نام پر قتل اور خواتین پر تشدد کے مقدمات کو سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں مستقل اور سختی کے ساتھ اٹھایا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments