اے ٹی آئی آر چیئرمین کی دوبارہ تعیناتی پر اعتراض، وکلا نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- وزارتِ قانون کے فیصلے کو آئینی اور قانونی طور پر چیلنج کردیا گیا
ہائی کورٹ کے وکلا کے ایک گروپ نے اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو) کے چیئرمین کی دوبارہ تعیناتی کے خلاف وزیرِاعظم شہباز شریف کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں وزارتِ قانون کے فیصلے کو آئینی اور قانونی طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔
وکلا کے اتحاد کی جانب سے 18 اپریل 2026 کو بھیجی گئی نمائندگی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین کی دوبارہ تعیناتی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور لاہور ہائی کورٹ کے 11 فروری 2025 کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
پس منظر کے مطابق مذکورہ عہدیدار کو مئی 2023 میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 130 کے تحت پہلی بار تعینات کیا گیا تھا، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے ٹیکس لاز (ترمیمی) ایکٹ 2024 منظور کیا، جس کے تحت چیئرمین کے لیے کم از کم 15 سالہ ہائی کورٹ وکالت کی شرط لازم قرار دی گئی۔
11 فروری 2025 کو عدالت نے ابتدائی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وزارتِ قانون کو ہدایت کی تھی کہ معاملے کا ازسرنو جائزہ قانون کے مطابق لیا جائے۔
وکلاء کا مؤقف ہے کہ کسی بھی غیر قانونی قرار دی گئی تعیناتی کو دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا، اور نئی تعیناتی موجودہ قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ تاہم وزارتِ قانون نے اسی شخص کو دوبارہ تعینات کر دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام عدالتی فیصلے اور قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے اور ادارہ جاتی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
وکلاء نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ تعیناتی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر 15 سالہ شرط پوری نہیں ہوتی تو اسے منسوخ کیا جائے، جبکہ چیئرمین کی نئی تعیناتی مکمل قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments