اپریل میں مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہنے کاامکان ہے، وزارت خزانہ کی پیشگوئی
- وزارت نے اپنی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں کہا ہے کہ مہنگائی میں متوقع اضافے اور مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود معاشی سرگرمیوں کے مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
پاکستان کی وفاقی وزارتِ خزانہ نے پیش گوئی کی ہے کہ اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہے گی، جبکہ مقامی تحقیقی ادارے اس کے دوبارہ دہرے ہندسے میں جانے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
وزارت نے اپنی تازہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک (اپریل 2026) میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود مہنگائی متوقع طور پر 8 سے 9 فیصد کی حد میں رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 کے لیے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی ) میں اضافہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوگا، جب افراطِ زر صرف 0.3 فیصد تھا، جبکہ مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
وزارت نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتدریج ملکی معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس سے بنیادی معاشی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ جمعرات کو عالمی تیل کی قیمت چار سال کی بلند ترین سطح 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران اوسط افراطِ زر 5.7 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 5.3 فیصد تھی۔
دوسری جانب انسائٹ سیکیورٹیز کے ریسرچ ہیڈ محمد شہروز نے کہا ہے کہ اپریل 2026 میں ہیڈ لائن افراطِ زر 10.1 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اضافہ کم بیس ایفیکٹ، خوراک اور ہاؤسنگ انڈیکس میں اضافے کے باعث ہوگا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 1.7 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس کی بڑی وجہ ریٹیل فیول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
مہنگائی میں اضافے کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے گزشتہ ہفتے اپنی پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد کر دیا، جو گزشتہ تین برس میں پہلی شرحِ سود میں اضافہ ہے۔
معیشت کشیدگی کے باوجود مستحکم رہنے کی توقع
وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود اہم معاشی اشاریے مستحکم رہے ہیں، جن میں بڑے پیمانے کی صنعت ( ایل ایس ایم ) میں بہتری، آٹوموبائل سیکٹر کی بحالی اور سیمنٹ کی ترسیلات میں اضافہ شامل ہے، جو اندرونی طلب میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اسی رفتار کے باعث معاشی سرگرمیوں کے مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی اجناس کی قیمتوں اور سپلائی چین میں خلل کے باوجود بیرونی شعبہ مستحکم رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ ترسیلاتِ زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہے۔
مجموعی طور پر معیشت کو مضبوط بنیادوں کے ساتھ ترقی کی راہ پر برقرار رہنے کے قابل قرار دیا گیا ہے، بشرطیکہ بروقت اور مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے منفی اثرات کو کم کیا جائے۔

























Comments