یہ حقیقت کہ پاکستان کا کاروباری ماحول باقاعدہ اور قانونی ضابطوں کی پابندی کرنے والی سرگرمیوں کیلئے اب بھی سازگار نہیں ہےجو کمپنیوں کو قانون کی پاسداری کی ترغیب دینے کے بجائے غیر دستاویزی (انفارمل) سیکٹر میں کام کرنے پر مجبور کرتا ہے، ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس پر وسیع پیمانے پر تحقیق بھی موجود ہے تاہم ان بگاڑ کو دور کرنے کیلئے جو علاج یا حل مستقل بنیادوں پر تجویز کیے جاتے ہیں، ان پر عملدرآمد نہ ہونے کا مسئلہ عرصہ دراز سے برقرار ہے۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کی جانب سے حال ہی میں تیار کردہ اور پالیسی سازوں کے ساتھ شیئر کی گئی ایک جامع دستاویز میں ان ڈھانچہ جاتی بگاڑ اور پالیسی کی ناکامیوں کو واضح طور پر بیان کیا گیا جو باقاعدہ (فارمل) کاروباری اداروں کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ جیسا کہ کونسل نے نشاندہی کی ہے، اس بدانتظامی کی جڑ میں طویل عرصے سے جاری گورننس کی خرابی موجود ہے جہاں پاکستانی حکام معیشت کی ناگزیر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی راہ میں حائل پالیسی جمود کو توڑنے میں یا تو نااہل ہیں یا پھر تیار نہیں ہیں۔ نتیجے کے طور پر کاروباری منظرنامہ ٹیکسز کے محدود دائرہ کار، برآمدات میں کمزور مسابقتی صلاحیت اور پالیسیوں کے حوالے سے مستقل غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔ یہ حالات نہ صرف معاشی ترقی کو دباتے ہیں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں بلکہ قوانین کی پاسداری کرنے والے اداروں پر ضرورت سے زیادہ جانچ پڑتال اور پیچیدہ ضوابط کا بوجھ بھی ڈال دیتے ہیں۔
ٹیکس کے ایک انتہائی غیر منصفانہ نظام میں ایک بنیادی خرابی پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے نشاندہی کی ہے، دستاویزی (ڈاکیومنٹڈ) شعبہ 55 سے 60 فیصد تک ٹیکس کا بوجھ اٹھا رہا ہے جبکہ معیشت کے بڑے حصے اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جس کی وجہ سے انہیں ڈھانچہ جاتی لاگت میں واضح فائدہ حاصل ہے، یہ عدم توازن ٹیکس کی ضرورت سے زیادہ بلند اور مسلسل بڑھتی ہوئی شرح پر حد سے زیادہ انحصار کا نتیجہ ہے جو ٹیکس کی ادائیگی کی ترغیب کو مسلسل کمزور کررہی ہیں۔ حیرت کی بات نہیں کہ جب ٹیکس ادا کرنا اسے بچانے کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ مہنگا ہو جائے تو ٹیکس چوری ایک منطقی انتخاب بن جاتا ہے، جو کمپنیوں کو غیر دستاویزی (انفارمل) رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کسی بھی قابلِ اعتبار کوشش کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی ضروری ہوگی لیکن پالیسی سازی میں یہ بنیادی منطق مفقود نظر آتی ہے۔ اس کے ساتھ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے شعبوں پر جہاں ٹیکس شرح بہت کم ہے، ٹیکس لگانے سے مسلسل گریز کیا جارہا ہے۔
اس مسئلے کو مزید سنگین بنانے والا عنصر وہ ٹیکس نظام ہے جو ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس پر مبنی ہے، یہ ایک ایسا تادیبی طریقہ کار ہے جس میں خسارے میں جانے والی کمپنیوں کو بھی اپنی آمدن پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جو کہ جدوجہد کرنے والے کاروبار کو بند ہونے پر مجبور کرسکتا ہے۔ یہ نظام ناگزیر طور پر قوانین کی پاسداری کرنے والوں کو سزا دیتا ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور باقاعدہ معیشت کے اندر کام کرنے کی لاگت بڑھا کر مجموعی معاشی سرگرمیوں کو دباتا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کی تجاویز جن میں سپر ٹیکس کی واپسی، انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر دوہرے ٹیکس کا خاتمہ، کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو علاقائی ممالک کے برابر لانا اور ٹیکس ریفنڈ کے عمل کو آسان بنانا شامل ہیں، سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات دوبارہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے، اشد ضرورت کے حامل غیر ملکی سرمائے کو راغب کریں گے اور پائیدار محصولات کی ترقی کی بنیادوں کو مضبوط کریں گے۔
ٹیکس کے ظالمانہ نظام کے علاوہ پاکستانی کاروباری اداروں کو جنوبی ایشیا کے مہنگے ترین آپریٹنگ ماحول کا بھی سامنا ہے جہاں خام مال کی بلند قیمتیں، بجلی کے بھاری ٹیرف اور فنانس تک محدود رسائی برآمدی مسابقت کو مسلسل کمزور کررہی ہے۔ خاص طور پر توانائی ایک سنگین مسئلے کے طور پر ابھری ہے، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، غیر یقینی سپلائی اور ان دونوں رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے کسی معتبر پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی صنعتی پیداواری صلاحیت کو متاثر کررہی ہے، لہٰذا لاگت مستحکم کرنے اور پیداوار برقرار رکھنے کے لیے صنعت کو مسابقتی قیمت پر بجلی کی فراہمی، یقینی سپلائی اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف فیصلہ کن منتقلی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
پھر ٹیلنٹ (ہنر مند افرادی قوت) اور سرمائے کا تیزی سے ہوتا ہوا انخلاء ہے جس کے باعث ملک کے بہت سے ماہر پیشہ ور افراد بیرون ملک مواقع تلاش کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگرچہ پی بی سی اسے ذاتی اور سرمائے پر عائد بھاری ٹیکسوں سے منسوب کرتی ہے لیکن اس کی وجوہات زیادہ گہری ہیں۔ تنخواہوں میں نمایاں فرق، کیریئر میں ترقی کے محدود مواقع اور ایسا ماحول جو ہمیشہ میرٹ کی قدر نہیں کرتا، سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہجرت کی اتنی ہی طاقتور وجوہات بن چکے ہیں۔ اسی طرح ایک غیر موثر قانونی ڈھانچہ بھی نقصان دہ ثابت ہورہا ہے جہاں معاہدوں کے نفاذ اور پراپرٹی کی رجسٹریشن جیسے معمول کے معاملات بھی انتہائی دشوار گزار ہیں جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں معیشت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیادی ازسرِ نو ترتیب کے لیے پی بی سی کا مطالبہ جس کا آغاز غیر منصفانہ ٹیکس نظام اور توانائی کی تادیبی قیمتوں کے خاتمے سے ہو اور جو سیاسی تبدیلیوں کے باوجود پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایک معتبر میثاقِ معیشت پر مبنی ہو آگے بڑھنے کا ایک عملی راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ اصلاحات فوری توجہ اور سیاسی عزم کی متقاضی ہیں اور پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وقفے وقفے سے کیے جانے والے عارضی اور قلیل مدتی اقدامات کبھی بھی دور رس ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments