زرعی بحران، گورنر پنجاب اور سنجینٹا کے سینئر رہنماؤں کے درمیان پالیسی اصلاحات پر تبادلہ خیال
- پاکستان کے کسان دنیا کے مضبوط ترین کسانوں میں شمار ہوتے ہیں، ذیشان حسیب بیگ
زرعی سائنس میں عالمی رہنما کمپنی سنجینٹا کی سینئر قیادت نے رواں ہفتے لاہور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وسیع تر روابط کو فروغ دینا تھا۔
دورے کے دوران سنجینٹا کی علاقائی قیادت نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور سیکریٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو سمیت دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پائیدار زراعت کے فروغ اور عالمی زرعی منظرنامے میں پاکستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر سنجینٹا میں افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا ریجن کے صدر، ایلکس برکووسکی اور افریقہ و مشرقِ وسطیٰ کے بزنس ہیڈ، جیروم باربرون کے ہمراہ سنجینٹا پاکستان کے کنٹری جنرل منیجر، ذیشان حسیب بیگ، اور ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبلٹی، علی مرتضیٰ بھی موجود تھے۔
پاکستان کا زرعی شعبہ جو ملک کی تقریباً 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے اور گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت موسمی تغیرات کے باعث بڑھتے ہوئے دباؤ کا مسلسل سامنا کر رہا ہے، جن میں غیر یقینی مون سون، سیلاب اور طویل خشک سالی شامل ہیں۔
ملاقاتوں کے دوران گفتگو کا مرکز جدید فصل تحفظ ٹیکنالوجیز اور حیاتیاتی محرکات کو اپنانے اور انہیں چھوٹے کاشتکاروں تک قابلِ رسائی بنانے کے لیے درکار ریگولیٹری اصلاحات پر رہا۔ سنجینٹا کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی اِن پٹس، بشمول حیاتیاتی محرکات، پر عائد موجودہ ٹیکس ایک بڑی رکاوٹ ہے جو موسمی لچک پیدا کرنے والی جدید ٹیکنالوجیز کو مہنگا بنا کر کاشتکاروں کی پہنچ سے دور کر دیتا ہے۔
اس موقع پر ذیشان حسیب بیگ نے کہا کہ پاکستان کے کسان دنیا کے مضبوط ترین کسانوں میں شمار ہوتے ہیں، تاہم وہ بدستور دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کے ساتھ سنجینٹا کے طویل مدتی عزم کی توثیق کرتا ہے۔ ہم ایک محفوظ غذائی مستقبل کی تعمیر میں شراکت دار ہیں۔
صوبائی حکام نے مذاکرات کے تسلسل کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا، جبکہ دونوں جانب سے طویل مدتی غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے سائنس پر مبنی پالیسی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔























Comments