ہائیڈل بجلی کی پیداوار 5,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، نظام کو بڑا ریلیف
- 17، 18 اور 19 اپریل کی راتوں میں پیک اوقات کے دوران کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کیا گیا، پاور ڈویژن
پاور ڈویژن نے منگل کے روز اعلان کیا کہ 17 اپریل 2026 سے پیک اوقات میں ہائیڈل ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھ کر 5,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جس سے بجلی کے نظام کو نمایاں ریلیف ملا ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبوں کی طلب کے مطابق ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کے باعث پیک رات کے اوقات میں پن بجلی کی پیداوار 5,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی علاقے سے اضافی 400 میگاواٹ بجلی کی دستیابی نے گرڈ کو مزید مستحکم کیا اور وسطی علاقوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد دی۔ اسی وجہ سے 17، 18 اور 19 اپریل کی راتوں میں پیک اوقات کے دوران کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کیا گیا۔
20 اپریل کو بیشتر ڈسکوز نے رات کے وقت لوڈ مینجمنٹ کو ایک گھنٹے تک محدود رکھا، تاہم گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) نے پیک اوقات میں دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی۔
پاور ڈویژن نے انکشاف کیا کہ ایل این جی پر چلنے والے 5,500 میگاواٹ صلاحیت کے حامل پاور پلانٹس فی الحال ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث بند ہیں۔ ایندھن کی فراہمی بحال ہونے پر یہ پلانٹس دوبارہ کام شروع کر دیں گے۔ تاہم بلوکی پاور پلانٹ سے مقامی گیس کے ذریعے تقریباً 500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بجلی چوری اور سسٹم لاسز سے منسلک لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی، جو پالیسی کا حصہ ہے اور پیک لوڈ مینجمنٹ سے الگ ہے، اوریہ ایل این جی کی بحالی کے بعد بھی برقرار رہے گی۔
گزشتہ ہفتے وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پریس کانفرنس میں ریونیو بیسڈ لوڈ شیڈنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے نیپرا ایکٹ کے مطابق باقاعدہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل کے خاتمے سے گردشی قرضے میں تقریباً 400 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس طرز کی لوڈ شیڈنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ڈسکوز اور کے الیکٹرک پر جرمانے عائد کیے ہیں، جبکہ وزارت قانون و انصاف نے بھی اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments