امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ کروڈ کی قیمت 21 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 98.27 ڈالر فی بیرل پر آ گئی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز کمی دیکھنے میں آئی، حالانکہ ایشیائی تجارت کے آغاز پر قیمتوں میں تقریباً 1 ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے مستقبل کا جائزہ لے رہے ہیں، خاص طور پر اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 21 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 98.27 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ سیشن کے دوران یہ 99.38 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 28 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 89.39 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، حالانکہ اس نے ابتدائی طور پر 90.71 ڈالر کی سطح کو چھوا تھا۔ اس سے قبل منگل کے روز دونوں بینچ مارک قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ جاری مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم یہ فیصلہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے اور فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکا کا اتحادی اسرائیل اس توسیع کو تسلیم کریں گے یا نہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک مذاکرات کا نتیجہ سامنے نہیں آتا اور آبنائے ہرمز بند رہتی ہے، تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔ جاپانی ادارے نِسان سیکیورٹیز کے اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ لڑائی شروع نہ ہوئی تو قیمتیں موجودہ سطح کے قریب ہی رہ سکتی ہیں۔
ادھر امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے، جسے ایرانی قیادت نے جنگی اقدام قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست نہیں کی اور وہ امریکی پابندیوں کا طاقت سے جواب دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، میں جہاز رانی تقریباً معطل ہے۔ دوسری جانب یورپ میں دروژبا آئل پائپ لائن کی بحالی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں کمی رپورٹ ہوئی ہے، جو آئندہ قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

























Comments