ایران کا آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان
- واشنگٹن نے ایران آنے اور وہاں سے جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی جاری رکھ کر وعدہ خلافی کی، سینٹرل ملٹری کمانڈ
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔
ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سخت نگرانی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حصے کے طور پر اس تزویراتی گزرگاہ کو کھولنے کے سابقہ فیصلے کو واپس لیتے ہوئے کیا گیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری کیے گئے بیان میں ہیڈ کوارٹر نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں پر آنے اور وہاں سے جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی جاری رکھ کر وعدہ خلافی کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چونکہ امریکا نے ناکہ بندی کے نام پر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس لیے ایران نے بھی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
انہوں نے جمعہ کو ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور تجارتی سرگرمیوں اور مکمل آمد و رفت کیلئے تیار ہے لیکن جہاں تک ایران کا تعلق ہے، بحری ناکہ بندی اس وقت تک پوری قوت اور اثر کے ساتھ برقرار رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ہمارا معاملہ 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا ۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایران نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے بعد اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے۔






















Comments