بینکنگ ایس ایم ایس چارجز میں ہمارا کوئی کردار نہیں، ٹیلی کام آپریٹرز کی وضاحت
- قیمتوں کا تعین بینک کرتے ہیں
ٹیلی کام آپریٹرز نے واضح کیا ہے کہ بینکاری لین دین سے متعلق صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس الرٹس کے چارجز کا تعین بینک خود کرتے ہیں۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات میں اس معاملے پر بحث کے بعد جانچ کا عمل تیز ہو گیا ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق بینک عموماً ایس ایم ایس الرٹ سروسز کے لیے براہِ راست ٹیلی کام نیٹ ورکس سے منسلک نہیں ہوتے۔ اس کے بجائے پیغامات لائسنس یافتہ تھرڈ پارٹی ایگریگیٹرز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں، جو بطور درمیانی فریق روٹنگ، ترسیل کی بہتری اور کمرشل معاملات کو سنبھالتے ہیں، جس کے بعد ٹریفک ٹیلی کام آپریٹرز تک پہنچتی ہے۔ اس طرح آپریٹرز ایک وسیع ویلیو چین کا صرف ایک حصہ ہوتے ہیں اور صارفین پر عائد ہونے والے حتمی چارجز پر ان کا کنٹرول نہیں ہوتا۔
ٹیلی کام کمپنیاں بڑے پیمانے پر پیغام رسانی کی خدمات کمرشل بنیادوں پر طے پانے والے انٹرپرائز معاہدوں کے تحت فراہم کرتی ہیں، خواہ براہِ راست یا ایگریگیٹرز کے ذریعے، تاہم بینک اپنے صارفین کے لیے قیمتوں کے ڈھانچے کا خود تعین کرتے ہیں جس میں ٹرانزیکشن نوٹیفکیشنز کیلئے ماہانہ ایس ایم ایس الرٹ فیس بھی شامل ہے جو اکثر میسجنگ چین کی بنیادی لاگت سے زیادہ ہوتی ہے۔
آپریٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ حتمی صارف سے وصول کیے جانے والے چارجز کو مکمل طور پر ٹیلی کام فراہم کنندگان سے منسوب کرنا اس نظام کی حقیقی کارکردگی کی عکاسی نہیں کرتا۔
ٹیلی کام انڈسٹری نے دونوں شعبوں کے مالیاتی تقابل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بینک معیشت کے سب سے زیادہ منافع بخش شعبوں میں شمار ہوتے ہیں وہیں ٹیلی کام آپریٹرز کو نمایاں لاگتی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان میں فی صارف اوسط آمدن کی کم سطح، توانائی کے بڑھتے نرخ، بھاری ٹیکسز اور قومی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی توسیع و دیکھ بھال کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کی ضروریات شامل ہیں۔
ان چیلنجز کے باوجود ٹیلی کام آپریٹرز کا کہنا ہے کہ وہ بینکاری ٹرانزیکشن الرٹس سمیت اہم خدمات کی معاونت کے لیے مسابقتی انٹرپرائز میسجنگ ریٹس فراہم کرتے رہتے ہیں۔ آپریٹرز نے مزید بتایا کہ وہ کارپوریٹ کلائنٹس، بشمول بینکس اور ایگریگیٹرز کے ساتھ شفاف اور بڑے حجم پر مبنی قیمتوں کے ماڈلز کے تحت معاہدوں کے انتظام کے لیے خصوصی ٹیمیں رکھتے ہیں۔
انہوں نے سینیٹ کمیٹی کے ساتھ تفصیلی ڈیٹا، جیسے ٹرانزیکشن والیومز اور سروس ریٹس، شیئر کرنے کی بھی آمادگی ظاہر کی تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ٹیلی کام شعبے کی جانب سے کوئی زائد چارجنگ نہیں کی جا رہی۔
پاکستان میں ٹیلی کام خدمات بدستور ریگولیٹری نگرانی کے تحت ہیں اور آپریٹرز نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مقرر کردہ تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کا اعادہ کیا۔
آپریٹرز نے محفوظ ڈیجیٹل بینکاری خدمات کے فروغ اور مالی شمولیت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطہ جاری رکھیں گے۔






















Comments