ایران جنگ بندی کی واضح ٹائم لائن نہ ملنے پر ڈالر کی قدر میں اضافہ
- ڈالر انڈیکس 99.925 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ خطاب کے بعد جمعرات کے روز امریکی ڈالر نے بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں دوبارہ مضبوطی حاصل کر لی، جس سے گزشتہ دو روز کی کمی ختم ہو گئی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔
ڈالر انڈیکس 99.925 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جبکہ بعد ازاں اس میں معمولی کمی کے بعد یہ 99.861 پر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے قبل ڈالر میں مسلسل دو روز تک کمی دیکھی گئی تھی کیونکہ مارکیٹ میں جنگ بندی کے امکانات پر امیدیں پیدا ہو گئی تھیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے، تاہم امریکی فوج آئندہ دو سے تین ہفتوں تک وہاں اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی۔ ان کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا مزید بڑھ گئی۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بیان نے مارکیٹ کی امیدوں کو متاثر کیا ہے اور سرمایہ کار یہ سمجھنے لگے ہیں کہ تنازع میں فوری کمی کے بجائے مزید شدت آ سکتی ہے۔ اس صورتحال نے ڈالر کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مزید پرکشش بنا دیا ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں میں تقریباً 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ میں رہے اور تقریباً 0.6 فیصد تک گر گئے۔ جاپانی ین بھی کمزور ہوا لیکن 160 کی اہم حد سے نیچے رہا۔
اب مارکیٹ کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر لیبر مارکیٹ میں کمزوری سامنے آتی ہے تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، جو اس وقت تیل کی بڑھتی قیمتوں اور افراط زر کے خدشات کے باعث کم ہو چکی ہیں۔

























Comments