مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کم ہوتی امید، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ خام تیل کی قیمت 1.13 ڈالر یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 103.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی تجویز پر غور جاری رکھنے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں نے دوبارہ مارکیٹ کا جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں بحالی آئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.13 ڈالر یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 103.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.08 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 91.40 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس سے ایک روز قبل دونوں بینچ مارکس میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
اگرچہ ایران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کا جاری تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے شرائط قبول نہ کیں تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق جنگ بندی کی امیدیں کمزور پڑ چکی ہیں اور صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ امریکی تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادیوں کی مالی معاونت کو محدود کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً بند ہو چکی ہے، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے اسے تاریخ کی بڑی سپلائی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
دریں اثنا، بھارت نے امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد کئی سالوں میں پہلی بار ایران سے ایل پی جی کی درآمد کی ہے۔ جاپان نے بھی ممکنہ طویل تنازع کے پیش نظر تیل کے ذخائر جاری کرنے پر زور دیا ہے۔
ادھر عراق کی تیل پیداوار میں کمی آئی ہے جبکہ روس کی برآمدی صلاحیت بھی یوکرینی حملوں کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ مزید برآں، امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں 6.9 ملین بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔






















Comments