پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں ’عارضی وقفے‘ کا اعلان کر دیا
- وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ فیصلہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت کیا گیا
پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر افغان سرزمین سے سرگرم افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف جاری سرحد پار فوجی کارروائی ”آپریشن غضبُ للحق“ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت کیا گیا، جو ایک جانب پاکستان کی اپنی پیش قدمی ہے اور دوسری جانب دوست ممالک کی درخواستوں کے جواب میں بھی اٹھایا گیا اقدام ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی سیکیورٹی خطرے کی صورت میں آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”عیدالفطر کے پیش نظر حکومتِ پاکستان نے آپریشن ‘غضبُ للحق’ میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے۔“
اعلان کے مطابق یہ وقفہ 19 مارچ کی نصف شب سے لے کر 23-24 مارچ 2026 کی نصف شب تک مؤثر رہے گا۔
وزیر نے کہا کہ یہ اقدام علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم اور اسلامی اقدار کی پاسداری کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور ترکیے کی جانب سے سفارتی رابطوں کے بعد کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معطلی مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”اگر کسی بھی قسم کی سرحد پار دراندازی، ڈرون حملہ یا پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمی ہوئی تو آپریشن پوری قوت کے ساتھ فوری بحال کر دیا جائے گا۔“
فروری کے آخر میں شروع کیا جانے والا یہ آپریشن، اسلام آباد کے مطابق افغانستان سے آنے والی مسلسل سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہے، جو اب شدت پسندوں کے ڈھانچے اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف ایک وسیع مہم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
یہ اعلان وقتی طور پر کشیدگی میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم حکام کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔























Comments