بھارت کا جون 2028 سے مقامی سولر انگوٹس اور ویفرز کے استعمال کو لازمی بنانے کا منصوبہ
- اس وقت بھارت میں سولر انگوٹس اور ویفرز کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ ہے
بھارت نے صاف توانائی کے شعبے میں مقامی صنعت کو فروغ دینے اور چینی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے نئی تجویز پیش کر دی ہے۔ بھارتی وزارتِ قابلِ تجدید توانائی کے مطابق جون 2028 سے صاف توانائی کی کمپنیوں کو صرف مقامی طور پر تیار کیے گئے سولر انگوٹس اور ویفرز استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سولر پینل کی تیاری کے پورے سلسلے میں مقامی اجزا کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
اس وقت بھارت میں سولر انگوٹس اور ویفرز کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی کے بعد توقع ہے کہ مقامی صنعت میں بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔ متعدد بڑی کمپنیاں، جن میں وارے انرجیز، ٹاٹا پاور اور انڈوسول سولر شامل ہیں، پہلے ہی قابلِ تجدید توانائی کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کر چکی ہیں۔
بھارت کا ہدف ہے کہ 2030 تک غیر فوسل فیول ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر 500 گیگاواٹ تک پہنچایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت مقامی پیداوار کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس سے قبل حکومت سرکاری منصوبوں میں مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے استعمال کو لازمی قرار دے چکی ہے، تاہم سولر سیلز، ویفرز، انگوٹس اور پولی سلیکون جیسے اجزا بیرون ملک سے درآمد کیے جا سکتے تھے۔
فی الحال بھارت سولر پینلز کی تیاری کے لیے درکار سیلز، ویفرز، انگوٹس اور پولی سلیکون کی درآمدات کے لیے مکمل طور پر چین پر انحصار کرتا ہے۔ حکومت نے اس انحصار کو کم کرنے کے لیے جون 2026 سے مقامی طور پر تیار کردہ سولر سیلز کے استعمال کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔ اس نئی تجویز کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔






















Comments