BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.51%)
KSE100 Increased By (0.33%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 58.47 Increased By ▲ 0.02 (0.03%)
BIPL 25.60 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.16 Decreased By ▼ -0.09 (-0.26%)
CNERGY 8.23 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 199.70 Increased By ▲ 2.23 (1.13%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.36 (0.4%)
FCCL 54.16 Increased By ▲ 0.27 (0.5%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 20.65 Increased By ▲ 0.85 (4.29%)
HBL 286.00 Decreased By ▼ -0.06 (-0.02%)
HUBC 216.96 Increased By ▲ 1.56 (0.72%)
HUMNL 11.22 Increased By ▲ 0.22 (2%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
LOTCHEM 28.36 Increased By ▲ 0.92 (3.35%)
MLCF 88.98 Increased By ▲ 0.93 (1.06%)
OGDC 324.99 Increased By ▲ 0.43 (0.13%)
PAEL 40.30 Increased By ▲ 0.36 (0.9%)
PIBTL 17.42 Increased By ▲ 0.10 (0.58%)
PIOC 279.01 Increased By ▲ 3.55 (1.29%)
PPL 233.15 Increased By ▲ 0.37 (0.16%)
PRL 34.85 Decreased By ▼ -0.10 (-0.29%)
SNGP 101.00 Increased By ▲ 1.39 (1.4%)
SSGC 27.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 9.04 Increased By ▲ 0.28 (3.2%)
TRG 73.19 Increased By ▲ 1.44 (2.01%)
UNITY 11.46 Decreased By ▼ -0.21 (-1.8%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
دنیا

بھارت کا جون 2028 سے مقامی سولر انگوٹس اور ویفرز کے استعمال کو لازمی بنانے کا منصوبہ

  • اس وقت بھارت میں سولر انگوٹس اور ویفرز کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ ہے
شائع March 18, 2026 اپ ڈیٹ March 18, 2026 02:26pm

بھارت نے صاف توانائی کے شعبے میں مقامی صنعت کو فروغ دینے اور چینی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے نئی تجویز پیش کر دی ہے۔ بھارتی وزارتِ قابلِ تجدید توانائی کے مطابق جون 2028 سے صاف توانائی کی کمپنیوں کو صرف مقامی طور پر تیار کیے گئے سولر انگوٹس اور ویفرز استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سولر پینل کی تیاری کے پورے سلسلے میں مقامی اجزا کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

اس وقت بھارت میں سولر انگوٹس اور ویفرز کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی کے بعد توقع ہے کہ مقامی صنعت میں بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔ متعدد بڑی کمپنیاں، جن میں وارے انرجیز، ٹاٹا پاور اور انڈوسول سولر شامل ہیں، پہلے ہی قابلِ تجدید توانائی کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کر چکی ہیں۔

بھارت کا ہدف ہے کہ 2030 تک غیر فوسل فیول ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر 500 گیگاواٹ تک پہنچایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت مقامی پیداوار کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اس سے قبل حکومت سرکاری منصوبوں میں مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے استعمال کو لازمی قرار دے چکی ہے، تاہم سولر سیلز، ویفرز، انگوٹس اور پولی سلیکون جیسے اجزا بیرون ملک سے درآمد کیے جا سکتے تھے۔

فی الحال بھارت سولر پینلز کی تیاری کے لیے درکار سیلز، ویفرز، انگوٹس اور پولی سلیکون کی درآمدات کے لیے مکمل طور پر چین پر انحصار کرتا ہے۔ حکومت نے اس انحصار کو کم کرنے کے لیے جون 2026 سے مقامی طور پر تیار کردہ سولر سیلز کے استعمال کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔ اس نئی تجویز کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments

200 حروف