BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.74%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 25.55 Increased By ▲ 0.13 (0.51%)
BOP 33.85 Decreased By ▼ -0.40 (-1.17%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.70 Decreased By ▼ -0.26 (-1.24%)
DGKC 197.00 Decreased By ▼ -0.47 (-0.24%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.39 (0.44%)
FCCL 53.35 Decreased By ▼ -0.54 (-1%)
FFL 17.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.78%)
GGL 20.49 Increased By ▲ 0.69 (3.48%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 0.44 (0.15%)
HUBC 213.89 Decreased By ▼ -1.51 (-0.7%)
HUMNL 11.06 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
KEL 8.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.74%)
LOTCHEM 28.12 Increased By ▲ 0.68 (2.48%)
MLCF 87.19 Decreased By ▼ -0.86 (-0.98%)
OGDC 320.75 Decreased By ▼ -3.81 (-1.17%)
PAEL 40.31 Increased By ▲ 0.37 (0.93%)
PIBTL 17.09 Decreased By ▼ -0.23 (-1.33%)
PIOC 276.00 Increased By ▲ 0.54 (0.2%)
PPL 228.40 Decreased By ▼ -4.38 (-1.88%)
PRL 34.59 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 98.80 Decreased By ▼ -0.81 (-0.81%)
SSGC 26.90 Decreased By ▼ -0.27 (-0.99%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.29 Increased By ▲ 0.53 (6.05%)
TRG 71.69 Decreased By ▼ -0.06 (-0.08%)
UNITY 11.58 Decreased By ▼ -0.09 (-0.77%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
دنیا

بھارت کا جون 2028 سے مقامی سولر انگوٹس اور ویفرز کے استعمال کو لازمی بنانے کا منصوبہ

  • اس وقت بھارت میں سولر انگوٹس اور ویفرز کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ ہے
شائع March 18, 2026 اپ ڈیٹ March 18, 2026 02:26pm

بھارت نے صاف توانائی کے شعبے میں مقامی صنعت کو فروغ دینے اور چینی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے نئی تجویز پیش کر دی ہے۔ بھارتی وزارتِ قابلِ تجدید توانائی کے مطابق جون 2028 سے صاف توانائی کی کمپنیوں کو صرف مقامی طور پر تیار کیے گئے سولر انگوٹس اور ویفرز استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سولر پینل کی تیاری کے پورے سلسلے میں مقامی اجزا کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

اس وقت بھارت میں سولر انگوٹس اور ویفرز کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی کے بعد توقع ہے کہ مقامی صنعت میں بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔ متعدد بڑی کمپنیاں، جن میں وارے انرجیز، ٹاٹا پاور اور انڈوسول سولر شامل ہیں، پہلے ہی قابلِ تجدید توانائی کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کر چکی ہیں۔

بھارت کا ہدف ہے کہ 2030 تک غیر فوسل فیول ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر 500 گیگاواٹ تک پہنچایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت مقامی پیداوار کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اس سے قبل حکومت سرکاری منصوبوں میں مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے استعمال کو لازمی قرار دے چکی ہے، تاہم سولر سیلز، ویفرز، انگوٹس اور پولی سلیکون جیسے اجزا بیرون ملک سے درآمد کیے جا سکتے تھے۔

فی الحال بھارت سولر پینلز کی تیاری کے لیے درکار سیلز، ویفرز، انگوٹس اور پولی سلیکون کی درآمدات کے لیے مکمل طور پر چین پر انحصار کرتا ہے۔ حکومت نے اس انحصار کو کم کرنے کے لیے جون 2026 سے مقامی طور پر تیار کردہ سولر سیلز کے استعمال کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔ اس نئی تجویز کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments

200 حروف