وزیراعظم کا پائیدار ترقی اور انصاف کی فراہمی پر زور
- غیرحل شدہ سیاسی تنازعات صورتحال کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کررہے ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کرہ ارض کو درپیش عالمی بحرانوں کواجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیرحل شدہ سیاسی تنازعات صورتحال کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کررہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’پائیدار ترقی ، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ‘‘کے موضوع پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا عالمی امن کے حصول کیلئے پائیدار ترقی اور انصاف ناگزیر ہیں۔ انہوں نے پائیدار اور جامع ترقی کے لیے عالمی سطح پر ازسرِنو عزم کی اپیل کرتے ہوئے اسے باہم جڑے ہوئے بحرانوں سے دوچار دنیا میں پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جغرافیائی سیاسی دشمنی، ماحولیاتی دباؤ اور تکنیکی بگاڑ (یا تبدیلی) مل کر ایک ایسی قوت بن رہے ہیں جو استحکام کو ختم کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کا اصل خطرہ کوئی ایک واحد خطرہ نہیں، بلکہ بہت سے خطرات کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ غربت، قرضوں کی مشکلات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور غیر حل شدہ سیاسی تنازعات عالمی عدم استحکام میں شدت پیدا کررہے ہیں۔
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کا جامع اور منصفانہ ہونا ضروری ہے، جس میں کسی کو بھی پیچھے نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقی کو اس وقت تک پائیدار نہیں کہا جا سکتا جب تک یہ لاکھوں لوگوں کو بہتر زندگی کے وعدے سے محروم رکھے۔
ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے غیر متناسب بوجھ کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی اخراج میں سب سے کم حصہ ڈالنے والی قومیں موسمیاتی تبدیلی، معاشی اتار چڑھاؤ اور قرضوں کی تنگی کی صورت میں سب سے بھاری قیمت چکارہی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی اخراج میں ملک کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن اس کے باوجود یہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کے حوالے سے انتہائی حساس ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کا بھی ذکر کیا جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، فصلیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد آنے والے سیلابوں نے ان چیلنجز کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ آفات انسانی سلامتی کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کی بنیاد مساوات، انصاف اور شفافیت پر ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان اہداف کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنا لیا ہے جس میں انسانی ترقی، تعلیم، صحت، غذائی تحفظ اور سماجی تحفظ، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کی نوجوانوں پر مشتمل بڑی آبادی ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ انہوں نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مہارتوں کی فراہمی، ڈیجیٹل تبدیلی اور اداروں کی مضبوطی میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جارحیت اور بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور کثیر جہتی کی حمایت کرتا رہا ہے کیونکہ تنازعات کے حل اور جنگ سے بچنے کا یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے اور اس میں اصلاحات لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ عالمی امن اور تعاون کے ایک موثر ستون کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ویانا اقوام متحدہ کے نظام میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،یہ عالمی گورننس کے اہم ستونوں کا گھر ہے جن میں دہشت گردی کے خلاف، انسداد منشیات، جرائم کی روک تھام ، مجرمانہ انصاف کی اصلاحات جیسے اہم ستون شامل ہیں،نیز یہ صنعتی ترقی، جوہری ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور پرامن استعمال اورخلائی اداروں کا گھر ہے،اسی لئے پاکستان آئی اے ای اے، یو این آئی ڈی او، یو این او ڈی سی اور ویانا میں موجود دیگر اداروں کے ساتھ اپنے تعمیری تعلقات کی بہت قدر کرتا ہے۔
نیز ہم مکمل طورپر ان اداروں کے اختیار کی حمایت کے پابند ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ صلاحیتوں کو نکھارنا، اشتراک علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اس بات کےلئے ناگزیر ہیں کہ جدت، امن وخوشحالی کا پل بنے نہ کہ نکال باہر کرنےاور عدم استحکام کا ذریعہ ثابت ہو،مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزکو ایسے طریقوں سے رائج کیاجانا چاہئےجو تمام انسانیت کےلئے فائدہ مند ہوں نہ کہ مراعات یافتہ چند طبقات کےلئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو جلد ہی یہ پائیدار ترقیاتی خلیج بن جائے گی، اس لئے آئیں ہم دنیا کے زخموں کو فقط ڈھانپنے کی کوشش نہ کریں بلکہ انہیں مندمل کریں کیونکہ جب ہم اپنے دور کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہم اپنے مستقبل کے امن کو بڑے خطرے میں ڈالتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments