شدید روسی حملوں سے یوکرین میں جوہری سلامتی پر بڑھتی تشویش،آئی اے ای اے بورڈ کا اجلاس طلب
- روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے شعبے پر مسلسل حملوں کے باعث جوہری تنصیبات کو بجلی کی فراہمی بارہا متاثر ہو چکی ہے
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی( آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس جمعہ کو یوکرین میں جوہری تنصیبات کی سلامتی پر غور کے لیے طلب کیا گیا ہے، جبکہ متعدد ممالک نے یوکرینی پاور پلانٹس کی غیر مستحکم صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے شعبے پر مسلسل حملوں کے باعث جوہری تنصیبات کو بجلی کی فراہمی بارہا متاثر ہو چکی ہے، جس سے ممکنہ جوہری حادثے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد نیدرلینڈز کی قیادت میں 13 ممالک نے آئی اے ای اے کے بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں تازہ پیش رفت اور ان کے جوہری تحفظ پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کرے۔
ارکان نے 21 جنوری کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اس صورتحال سے جوہری تحفظ کو درپیش خطرات کی شدت اور ہنگامی نوعیت پر انہیں شدید تشویش ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ حالیہ حملوں نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے، جو جوہری بجلی گھروں کے محفوظ آپریشن کے لیے ناگزیر ہے۔
گزشتہ ہفتے چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ عارضی طور پر بیرونی بجلی کی فراہمی سے مکمل طور پر محروم ہو گیا تھا۔ یورپ کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ زاپوریزہیا، جو مارچ 2022 سے روسی افواج کے قبضے میں ہے، بھی بارہا لڑائی سے متاثر ہو چکا ہے۔
اسی ماہ روس اور یوکرین نے ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا تاکہ زاپوریزہیا کو بجلی فراہم کرنے والی آخری بیک اپ لائن کی مرمت ممکن ہو سکے، جو جنوری کے آغاز میں فوجی سرگرمیوں کے باعث منقطع ہو گئی تھی۔ اگرچہ پلانٹ کے چھے ری ایکٹر بند ہیں، تاہم کولنگ اور سکیورٹی نظام برقرار رکھنے کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی ضروری ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جوہری تباہی کے خطرات بڑھانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

























Comments