پاکستان نے 3,650 ارب روپے کا قرضہ مقررہ وقت سے پہلے واپس کیا، خرم شہزاد
- صرف 14 ماہ میں وزارت خزانہ نے مارکیٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو واجب الادا داخلی قرضے کی ادائیگی میں 3,654 ارب روپے قبل از وقت ادا کیے، بیان
پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بار مقررہ مدت سے پہلے 3,650 ارب روپے سے زائد قرضہ واپس کیا ہے، یہ بات وفاقی وزیر برائے خزانہ و آمدنی کے مشیر خرم شہزاد نے بتائی۔
خرم شہزاد نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر بتایا کہ پاکستان نے 2024 کے آخر سے اپنی تاریخ میں پہلی بار قرضہ قبل از وقت واپس کرنا شروع کیا، اور یہ کام غیر معمولی پیمانے پر کیا گیا۔ صرف 14 ماہ میں وزارت خزانہ نے مارکیٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو واجب الادا داخلی قرضے کی ادائیگی میں 3,654 ارب روپے قبل از وقت ادا کیے۔
تازہ ترین ادائیگی جمعرات کو اسٹیٹ بینک کو 300 ارب روپے کی کی گئی۔ یہ سنگ میل ملکی مالیاتی نظم و ضبط، اعتماد اور ذمہ دارانہ معاشی انتظام کی جانب ایک واضح قدم ہے۔
قبل از وقت قرضہ واپسی کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
-
دسمبر 2024: 1,000 ارب روپے
-
جون 2025: 500 ارب روپے
-
اگست 2025: 1,160 ارب روپے
-
اکتوبر 2025: 200 ارب روپے
-
دسمبر 2025: 494 ارب روپے
-
جنوری 2026: 300 ارب روپے
مالی سال 26 (جولائی–جنوری) میں صرف قبل از وقت قرضہ واپسی 2,150 ارب روپے سے زائد رہی، جو مالی سال 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔
- مرکزی بینک کا قرضہ بھی کم کیا گیا، تقریباً 44 فیصد قرضہ قبل از وقت ادا کئے، اسٹیٹ بینک کے قرضے 5,500 ارب روپے سے کم کر کے 3,000 ارب روپے تک پہنچائے گئے۔
- اس قرضے کی اصل میعاد 2029 تھی، لیکن سالوں پہلے واپس کی گئی۔
- کل قبل از وقت واپسی میں 65 فیصد اسٹیٹ بینک قرضہ، 30 فیصد ٹی بلز، اور 5 فیصد پی آئی بی شامل ہیں۔
مجموعی عوامی قرضہ جون 2025 میں 80.5 ٹریلین روپے سے کم ہو کر نومبر 2025 میں 80 ٹریلین روپے تک آ گیا۔
اس کے ساتھ پاکستان کا قرضہ-جی ڈی پی تناسب 74 فیصد (مالی سال 22) سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد رہ گیا، جو مالیاتی بنیادوں کی مضبوطی اور قرضہ نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔
قبل از وقت قرضہ واپسی کے فوائد میں کم مالیاتی خطرہ، کم قرضے کی لاگت، ترقیاتی اور سماجی منصوبوں کے لیے زیادہ مالی گنجائش، اور قرضہ میعاد میں بہتری شامل ہیں۔ مالی سال 25 میں 850 ارب روپے بچت ہوئی جبکہ مالی سال 26 میں مزید 800 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ یہ صرف قرضہ واپسی نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی بحالی ہے، جس میں قرضہ کم کرنے، خطرے میں کمی، اور پائیداری کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس سے ملک کے لیے مضبوط اور محفوظ معاشی مستقبل ممکن ہوا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments