سانحہ گل پلازہ : سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ، چیف جسٹس ہائی کورٹ کو خط ارسال
- غفلت برتنے پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس (ساؤتھ) اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس معطل
سندھ حکومت نے کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں تقریباً 80 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
جمعرات کو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور کمشنر کراچی حسن نقوی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر استدعا کی ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے حاضر سروس جج مقرر کیا جائے۔
انتظامی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے تسلیم کیا کہ آگ بجھانے والی گاڑیوں (فائر ٹینڈرز) کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ نتیجے کے طور پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ہائیڈرینٹ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے محکمہ سول ڈیفنس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہے۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ 2023 سے گل پلازہ کے متعدد سیفٹی آڈٹ کرنے اور ہنگامی انتظامات کی کمی پر دو نوٹس جاری کرنے کے باوجود محکمہ حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کروانے یا خلاف ورزیوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔
حفاظتی اور قانونی اقدامات کی اسی کمی اور غفلت کی بنا پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس (ساؤتھ) اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ان سے قبل میونسپل کمشنر افضل زیدی کو بھی معطل کیا جا چکا ہے۔ یہ فیصلے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر نے سانحے کی سنگینی کے بارے میں بتایا کہ جب آگ لگی تو عمارت کے اندر 2,000 سے 2,500 افراد موجود تھے۔ اگرچہ زیادہ تر کو نکال لیا گیا یا وہ خود نکلنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن 80 افراد اندر ہی پھنس کر رہ گئے اور دم توڑ گئے۔ انہوں نے کہا، ہم اس واقعے میں مکمل شفافیت چاہتے ہیں، حکومت نے کبھی خود کو جوابدہی سے بالاتر نہیں سمجھا۔
یہ اقدام سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کی جانب سے ایک دن پہلے کی گئی درخواست کے عین مطابق ہے۔ گورنر نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے ایک علیحدہ خط میں زور دیا تھا کہ غفلت اور قانونی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد یا اداروں کے تعین کے لیے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔ گورنر کامران ٹیسوری نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی اعتماد کی بحالی اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے شفاف انکوائری ناگزیر ہے اور انصاف کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔






















Comments