پارلیمانی کمیٹی نے بیوروکریٹس اور ججز کیلئے دوہری شہریت پر پابندی کی تجویز دیدی
- اجلاس میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طور پر دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی تقرری پر پابندی کے بل کی منظوری کے حق میں ہاتھ اٹھائے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ نے پیر کو بیوروکریٹس کی دوہری شہریت ختم کرنے کی ممکنہ تجاویز پر غور کیا اور ججز کے لیے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس معاملے پر حتمی فیصلہ 16 فروری کو لیا جائے گا۔
کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ایم این اے ابرار احمد نے کی۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طور پر دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی تقرری پر پابندی کے بل کی منظوری کے حق میں ہاتھ اٹھائے۔ تاہم حتمی فیصلہ 16 فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔
اجلاس میں فیڈرل ایمپلائز بینیولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس (ترمیمی) بل 2024 اور اسٹینڈرڈ ٹائم (تشریعی حوالہ جات) (ترمیمی) بل 2025 کو منظور کیا گیا۔ کمیٹی نے سول سرونٹس (ترمیمی) بل 2024 اور 2025 سمیت دیگر متعلقہ بلز اور پچھلی سفارشات پر بھی غور کیا۔
اسپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سارہ سعید نے بیوروکریٹس کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دینے کے حق میں دلائل دیے اور کہا کہ پیدائشی طور پر دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے رعایت دی جانی چاہیے۔
ایم این اے نور عالم خان نے کہا کہ اعلیٰ اور حساس عہدوں پر فائز گریڈ 21 اور 22 کے افسران دوہری شہریت رکھتے ہیں، جو ملکی راز اور اہم دستاویزات کی منظوری دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرین پانچ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ بیوروکریٹس کئی سال خدمات انجام دیتے ہیں۔
کابینہ سیکرٹری کامران علی افضال نے کہا کہ دوہری شہریت پر قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کا حق ہے اور ججز کو بھی اس پابندی میں شامل کرنا چاہیے۔ کمیٹی کے تمام اراکین نے اس تجویز کی حمایت کی۔
کمیٹی رکن نُزہت صادق اور طاہرہ اورنگزیب نے بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ یا دیگر اہم عہدوں پر جانے سے قبل اپنی غیر ملکی شہریت ترک کی۔
نور عالم خان نے کہا کہ وزیراعظم بھی بل کے حق میں ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین ابرار احمد نے کہا کہ وزیراعظم سے تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور اس معاملے کو 16 فروری 2026 کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments