وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے آسان قرضوں کی ہدایت
- فورم کو پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے کو عالمی منڈی سے متعارف کروانے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا گیا
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اقدامات کو تیز کریں تاکہ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ( ایس ایم ایز) کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کریں۔
وزیراعظم آفس نے پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز نے یہ بات چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( ایس ایم ای ڈی اے ) کے کاروباری منصوبے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ہے۔
اجلاس کے دوران ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے تین سالہ روڈ میپ پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اور ایس ایم ای ڈی اے کے حال ہی میں منتخب ہونے والے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی عملی اور موثر منصوبہ بندی کو سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتے ہیں اور زور دیا کہ ایس ایم ای شعبے کی ترقی میں ملکی برآمدات بڑھانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔
اجلاس کو ایس ایم ایزکو درپیش چیلنجز، ان کے حل کے لیے ایکشن پلان، ایس ایم ایز کو قومی برآمدات میں ضم کرنے کی حکمت عملی اور کاروباری منصوبے میں شامل دیگر اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مزید برآں بریفنگ میں مختلف ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کے ایس ایم ای شعبے کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنیادوں پر متعارف کرایا جا سکے۔ اس بات کا ذکر کیا گیا کہ مقامی ایس ایم ایز کی استعداد بڑھانے کے لیے حال ہی میں چھ شہروں میں متعدد ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے، اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز جاری ہیں۔
ایس ایم ای شعبے میں خواتین کی شرکت اور فعال کردار کے حوالے سے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیرِ اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، ایس ایم ای ڈی اے کے حال ہی میں منتخب ہونے والے بورڈ اراکین اور متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے شرکت کی۔

























Comments
Comments are closed.