BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

ٹرمپ کا وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی تک ملک چلانے کا اعلان

  • یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ ماضی میں دیگر رہنماؤں پر بیرونی معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگاتے رہے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر حملے، اس کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عارضی طور پر ملک چلانے کے اعلان نے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک غیرمعمولی موڑ کو جنم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ ماضی میں دیگر رہنماؤں پر بیرونی معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگاتے رہے ہیں اور بیرونی معاملات سے بچنے کے وعدے کرتے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا جب تک وہاں ایک محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ اقتدار کی منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی۔ ان کے بیان سے یہ عندیہ بھی ملا کہ مستقبل میں مزید فوجی کارروائی، وینزویلا کی سیاست اور تیل کے شعبے میں امریکی شمولیت اور زمینی فوجی تعیناتی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ اقدام ٹرمپ کے اس بیان سے متصادم نظر آتا ہے جو انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر دیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی کامیابی کا پیمانہ نہ صرف جیتی گئی جنگیں ہوں گی بلکہ وہ جنگیں بھی ہوں گی جن سے امریکہ دور رہا۔ تاہم اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ شام، عراق، ایران، یمن، نائجیریا اور صومالیہ میں کارروائیاں کر چکی ہے۔

وینزویلا پر رات گئے ہونے والا حملہ اب تک کی سب سے جارحانہ فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دارالحکومت کاراکاس سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات پر نیویارک منتقل کیا گیا۔

اس پیش رفت پر امریکہ کے اندر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ اقدام امریکہ فرسٹ پالیسی کے منافی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہنما چک شومر نے کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بغیر فوجی مداخلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اب وینزویلا میں ایک پیچیدہ عبوری حکومتی عمل میں الجھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف وینزویلا بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Comments

Comments are closed.