حکومت نے نجی سرمائے سے چلنے والے پاکستان کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کا اجرا کر دیا
- ہنرمندی کی تربیت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں متعارف
پاکستان نے ملک کے پہلے نجی سرمائے سے چلنے والے پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ(پی ایس آئی بی)کا آغاز کر کے تاریخی سنگ میل عبور کر لیا۔ ایک ارب روپے مالیت کا یہ پائلٹ پراجیکٹ وزارتِ خزانہ کی ضمانت سے شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد تکنیکی مہارتوں کی ترقی کے پروگرام کو وسیع اور پائیدار بنانا ہے۔
یہ بانڈ پاکستان میں ہنرمندی کی تربیت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے روایتی طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب توجہ صرف بجٹ خرچ کرنے (ان پٹ) کے بجائے تربیت کے حتمی نتائج (آؤٹ کم) جیسے کہ سرٹیفیکیشن، ملازمت کے حصول اور کم از کم 6 ماہ تک ملازمت برقرار رکھنے پر ہوگی۔ مستقبل میں اس ماڈل کو اس طرح تیار کیا جائے گا کہ بانڈ کی واپسی تربیت یافتہ نوجوانوں کی تنخواہوں کے ایک معمولی حصے سے منسلک ہو، جس سے یہ نظام خود کفیل بن سکے گا۔
لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی انسانی ترقی کی حکمتِ عملی میں انقلابی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں جدید ہنر سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ڈیجیٹل مہارتوں اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجی کا ذکر کیا، جس سے پاکستانی نوجوانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزیرخزانہ نے مزید بتایا کہ یہ بانڈ سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک کا حصہ ہے جس میں تعلیم، صنفی مساوات اور صحت سمیت چھ قومی ترجیحات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ اس پروگرام میں 40 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو معاشی ترقی میں خواتین کے کلیدی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب سے وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی اورایگزیکٹو ڈائریکٹر نیوٹک(این اے وی ٹی ٹی سی) محمد عامر جان نے بھی خطاب کیا اور اس منصوبے کو پاکستان کے روشن مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تربیت کو محض ایک سرکاری مشق کے بجائے انسانی سرمائے میں ایک تزویراتی سرمایہ کاری بنا دیا گیا ہے۔
خالد مقبول صدیقی اورمحمد عامر جان نے اس موقع پر کہا کہ یہ منصوبہ نیوٹک کو ایک جدید اور ڈیمانڈ پر مبنی ایکو سسٹم میں تبدیل کرنے کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب فنی تربیت کو محض متفرق مداخلتوں کے بجائے انسانی سرمائے میں ایک تزویراتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل نہ صرف نجی سرمائے کو متحرک کرے گا بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی ہنر کی ساکھ اور برآمدی صلاحیت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔




















Comments