پاکستان اسٹاک مارکیٹ سے 2026 میں بھی شاندار کارکردگی کی توقع ہے، عارف حبیب لمیٹڈ
- سال 2026 میں ایکویٹیز سرمایہ کاری کے لیے اولین انتخاب رہیں گے، رپورٹ
پاکستان اسٹاک مارکیٹ سے سال 2026 کے دوران بھی شاندار کارکردگی کی توقع کی جارہی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ پاکستان انویسٹمنٹ اسٹریٹجی 2026: دی ایکویٹی ایج کنٹینیوز کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے سال 2026 میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے والا اثاثہ رہنے کی توقع ہے۔ اس مثبت صورتحال کو بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام، افراطِ زر (مہنگائی) کے دباؤ میں کمی اور مقامی مارکیٹ میں مسلسل نقد رقم کی دستیابی سے تقویت ملے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2026 میں ایکویٹیز سرمایہ کاری کے لیے اولین انتخاب رہیں گے جس میں کے ایس ا ی100 انڈیکس کے 21.60 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ شرحِ نمو سونے (5.15 فیصد)، چاندی (7.89 فیصد) اور ٹی بلز (10.05 فیصد) کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوگی۔’
رپورٹ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس کی گزشتہ 5 سالوں کی 31.31 فیصد کی مضبوط سالانہ شرحِ نمو اس کی مزید بڑھنے کی صلاحیت کو تقویت دیتی ہے۔ اس کے برعکس دیگر متبادل ذرائع جیسے بینک ڈپازٹس (10.81 فیصد)، ڈالر کی قدر میں اضافہ (12.45 فیصد) اور پی آئی بیز (12.77 فیصد) کم منافع فراہم کرتے ہیں جو ایکویٹیز کو 2026 میں ترقی کے لیے سب سے پسندیدہ اثاثہ بناتے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے دسمبر 2026 کے لیے کے ایس ای 100 انڈیکس کا ہدف 208,000 پوائنٹس مقرر کیا ہے’جس کا مطلب 23 دسمبر 2025 کی اختتامی سطح سے 21.6 فیصد کا اضافہ ہے۔ ہمارا انڈیکس ہدف ٹارگٹ پرائس میپنگ اور جسٹسائیڈ پی/ای پر مبنی ہے۔
رپورٹ میں ایک سازگار میکرو معاشی پس منظر کو نمایاں کیا گیا ہے جس کی خصوصیات میں مہنگائی میں کمی، کرنسی کا استحکام، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ کا قابلِ انتظام خسارہ شامل ہیں۔
مہنگائی کے سنگل ڈیجٹ میں رہنے کی توقع اور پالیسی ریٹس میں بتدریج کمی کے پیش نظر، ایکویٹیز کو فکسڈ انکم آلات کے مقابلے میں زیادہ پرکشش متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کمپنیوں کے انضمام اور آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کیلنڈر سال 2026 میں مختلف شعبوں بشمول ایف ایم سی جی ، ادویات سازی، تیل و گیس، آٹوموٹیو، آئی ٹی، رئیل اسٹیٹ اور مالیاتی خدمات میں 10 سے 12 آئی پی اوز لانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان پیشکشوں کے ذریعے 20 سے 25 ارب روپے سے زائد جمع ہونے کا امکان ہے، جو کیپیٹل مارکیٹ میں ایک مضبوط اور بھرپور پائپ لائن کا اشارہ ہے۔
رپورٹ میں کمپنیوں کے منافع میں 5.9 فیصد کی معمولی شرحِ نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے؛ تاہم، اس کے باوجود حصص ( سب سے زیادہ پرکشش اثاثہ بنے ہوئے ہیں جو دیگر متبادل کے مقابلے میں بہتر قدر فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق: ’مارکیٹ کی ویلیوایشن اب بھی پرکشش ہیں، کے ایس ای-100 انڈیکس کا مستقبل کا پی ای ریشو (فارورڈ پی/ای) 8.0x رہنے کا تخمینہ ہے، جو اس کی طویل مدتی اوسط کے عین مطابق ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے درمیانی مدت کے لیے ساختی اصلاحات کی رفتار کو بھی ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری اور بجلی کے شعبے کی تنظیمِ نو میں ہونے والی پیش رفت کو مارکیٹوں کے لیے اہم علامات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے پی آئی اے کی نجکاری کا معاہدہ محض فروخت سے بڑھ کر ہے، یہ وسیع تر اقتصادی بحالی کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے کے بقیہ اثاثوں کی نجکاری کے حوالے سے سرگرمیوں میں اب تیزی آ رہی ہے۔ آئییسکو ، گیپکو اور فیسکو کے لیے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، مالیاتی مشیر مقرر کیے جا چکے ہیں اور 2026 کے اوائل میں ظہارِ دلچسپی (ای او آئیز) کی توقع ہے۔ نسبتاً فعال ڈسکوز کے طور پر ان اداروں کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ سرمایہ کاروں کی بھرپور توجہ حاصل کر سکیں اور بجلی کے شعبے میں مزید اصلاحات کی بنیاد رکھ سکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ مارکیٹ کا نقطہ نظر تعمیری ہے تاہم خطرات موجود ہیں جو کل معاشی کارکردگی، بیرونی کمزوریوں، پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی جغرافیائی سیاسی حالات تک پھیلے ہوئے ہیں، جو سرمایہ کار کے جذبات اور اثاثوں کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیں“
اے ایچ ایل نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پروگرام معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
اگر آئی ایم ایف کی کارکردگی کے معیار پورے نہ کیے گئے تو آئندہ قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوسکتی ہے جس سے بیرونی مالی معاونت کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گی۔ اس طرح کی تاخیر سرمایہ کاروں کا اعتماد کم کرسکتی ہے، ریاستی قرضوں کی لاگت بڑھا سکتی ہے اور ادائیگی کے توازن پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، جس سے پالیسی کے لیے گنجائش محدود ہو جائے گی۔





















Comments
Comments are closed.