کرپٹو چیف کا بٹ کوائن خریدنے کیلئے آن لائن ویڈیوز دیکھنے کا مشورہ
- بلال بن ثاقب کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید
پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے عوامی سطح پر شہریوں کو بٹ کوائن خریدنے کیلئے ویڈیوز دیکھنے کا مشورہ دیا حالانکہ اس وقت لاکھوں پاکستانی غیر منظم پیئر ٹو پیئر (پی 2 پی) کرپٹو مارکیٹس کے خطرات سے دوچار ہیں۔
بلال بن ثاقب نے حال ہی میں نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں کوئی فنانشل ایڈوائزر نہیں ہوں لیکن اگر آپ پھر بھی بٹ کوائنز خریدنا چاہتے ہیں تو ایسی کئی ویڈیوز موجود ہیں جن کے ذریعے 30 سے 40 ملین (تین سے چار کروڑ) لوگوں نے ڈیجیٹل اثاثے خریدنا شروع کر دیے ہیں لہٰذا آپ کو بھی اسی طریقے پر عمل کرنا چاہیے۔
بلال بن ثاقب کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف یہی نہیں، میرا خیال ہے کہ پاکستان کو 2050ء کی تیاری ابھی سے شروع کر دینی چاہیے، کیونکہ ہر وہ چیز جسے ہم جانتے اور سمجھتے ہیں، اب نئے سرے سے ری ڈیفائن ہو رہی ہے۔ ہمیں روایتی سوچ سے باہر نکل کر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے علم پر توجہ دینی ہوگی
بلال بن ثاقب کی رائے تھی کہ مستقبل میں ڈیجیٹل اثاثے، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈرونز، روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ ’خودمختاری‘ کے تصور کو نئے سرے سے تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ شعبے ہیں جہاں پاکستان کو اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
چند روز قبل وزارت خزانہ نے بائننس انویسٹمنٹس کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جو دنیا کی معروف بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ پاکستان کا خودمختار اثاثوں کی بلاک چین پر مبنی تقسیم کی جانب پہلا رسمی اقدام ہے۔
یہ ایم او یو وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور بائننس کے سی ای او رچرڈ ٹینگ نے پاکستان کرپٹو کونسل کے مشیر چانگ پینگ ژاؤ کی موجودگی میں دستخط کیا۔
یہ ایم او یو پاکستان کے حقیقی اور خودمختار اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور بلاک چین پر مبنی تقسیم میں ممکنہ تعاون کیلئے ایک فریم ورک قائم کرتا ہے جس میں حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈیٹی ریزروز اور دیگر وفاقی ملکیت والے اثاثے شامل ہیں۔
قابل اطلاق قوانین، پالیسیوں اور ریگولیٹری منظوریوں کے تابع، اس اقدام میں 2 بلین ڈالر تک کے اثاثے شامل ہو سکتے ہیں تاکہ لیکویڈٹی، شفافیت اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

























Comments
Comments are closed.