BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-0.37%)
KSE100 Decreased By (-0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.16%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.78 Increased By ▲ 0.88 (5.53%)
DGKC 192.15 Decreased By ▼ -0.30 (-0.16%)
FABL 94.00 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
FCCL 52.63 Decreased By ▼ -0.16 (-0.3%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.16 Decreased By ▼ -0.40 (-2.04%)
HBL 306.11 Increased By ▲ 0.01 (0%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.06 Decreased By ▼ -0.10 (-0.98%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 93.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.50 Decreased By ▼ -0.13 (-0.36%)
PIBTL 14.86 Increased By ▲ 0.18 (1.23%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.80 Decreased By ▼ -2.11 (-0.93%)
PRL 93.05 Increased By ▲ 0.03 (0.03%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.76 Decreased By ▼ -0.05 (-0.21%)
TELE 7.83 Increased By ▲ 0.03 (0.38%)
TPLP 12.88 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
TRG 56.79 Increased By ▲ 0.23 (0.41%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں سے ملک معاشی تباہی کے دہانے پر، مزمل اسلم

  • موجودہ سال 21 سال کی بلند ترین بے روزگاری، 78 سال کی بلند ترین غربت کے ساتھ ختم ہورہا
شائع اپ ڈیٹ

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں نے ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، موجودہ سال 21 سال کی بلند ترین بے روزگاری اور 78 سال کی بلند ترین غربت کے ساتھ ختم ہورہا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ 22 ماہ کے دوران 38 غیر ملکی دورے کیے ہیں، یعنی اوسطاً ہر ماہ دو غیر ملکی دورے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن غیر ملکی سرمایہ کاری صفر ہے۔ 2025 کے اختتام تک پاکستان دنیا سے مزید پیچھے چلا گیا ہے اور ملک کی معاشی صورتحال وینٹیلیٹر پر ہونے سے بھی زیادہ نازک ہوگئی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ ملک کی برآمدات میں کمی واقع ہورہی ہے، نومبر میں برآمدات صرف 2.4 ارب ڈالر رہی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی جون میں مزید بڑھ کر 8.9 فیصد ہو جائے گی اور حکومت کو اب بھی 422 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا خلا درپیش ہے۔

کم ٹیکس وصولی کی وجہ سے مزید ٹیکسز عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو دوبارہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی سزا دی جارہی ہے اور ملک میں تمام اشیاء پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لیے 1,250 ارب روپے کا قرضہ لیا جس کے نتیجے میں عوام پر فی یونٹ 3.25 روپے کا سرچارج عائد کر دیا گیا۔ ایک نیا گیس سرکلر ڈیٹ پیدا ہوگیا ہے جو جی ڈی پی کا 3.2 فیصد یعنی 3,200 ارب روپے کے برابر ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.