صرف ٹیکسٹائل نہیں، تمام شعبے برآمدات بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں، وزیر خزانہ
- اگر مہنگائی کم رہی تو پالیسی ریٹ میں مزید کمی کی جا سکتی ہے، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ہفتے کے روز کہا کہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کی ذمہ داری نہیں، دیگر شعبوں کو بھی برآمدات کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے بہاؤ کو ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ اگر مہنگائی کم رہی تو پالیسی ریٹ میں مزید کمی کی جا سکتی ہے، جس سے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔
انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے منعقدہ آل پاکستان چیمبرز کانفرنس میں کہی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مسلسل اور بامعنی مکالمہ ضروری ہے کیونکہ صرف بجٹ کے دوران رابطہ پائیدار حل فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ پر مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آٹھ ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، جن کی پیش رفت 15 جنوری تک متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے بعد اسٹیٹ بینک کو 1.2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں اور نجی شعبے کو پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی تشخیصی اور بدعنوانی کی رپورٹ حکومت کی شفافیت کے عمل کا نتیجہ تھی اور کسی مخصوص حکومت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ساختی کمزوریوں کے حل کے لیے ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ترسیلات زر کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور مقامی بانڈ مارکیٹ کے فروغ اور کموڈیٹی مارکیٹس کی ڈیریگولیشن کے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ پاسکو کو ختم کیا جائے گا اور اسٹریٹجک ریزروز نجی شعبے کے ذریعے برقرار رکھے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی آفس کو ایف بی آر سے الگ کر کے وزارت خزانہ کے تحت منتقل کیا گیا ہے تاکہ طویل مدتی اور مستحکم پالیسی سازی ممکن ہو۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ فارمل سیکٹر اور تنخواہ دار طبقہ دباؤ میں ہے اور عدم تعمیل کرنے والے شعبوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی ترقی صرف نجی شعبہ کی ذریعے ہی کی جاسکتی ہے، جبکہ حکومت کا کردار سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ 4 فیصد بڑھ گئی، آئی ٹی برآمدات 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، اور ترسیلات زر 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری، کرپٹو، بلاک چین اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق اقدامات اور لاہور چیمبر میں ریسرچ سیل کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے سرکاری اداروں کی نجکاری، ٹیرف اصلاحات اور برآمدات کی بنیاد پر ترقی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے کی یقین دہانی کرائی۔
کانفرنس سے خطاب میں لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکے ہیں، جس سے صنعت کے لیے فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلند پالیسی ریٹ اور مہنگی بجلی و گیس صنعتوں کو بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدات کی فارنزک آڈٹ اور بجلی کے نرخوں کو خطے کے مطابق کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی ترغیب دی جائے اور موجودہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جائے، تاکہ سادہ اور شفاف ٹیکس نظام قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے برآمدات میں اضافہ کے لیے درآمد کنندگان کی سہولت، فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی اور ڈیوٹی ریفنڈ کی بروقت ادائیگی کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس میں سارک، چمن، کوئٹہ اور سرحد کے چیمبرز کے صدور نے سرحدی تجارت کھولنے پر زور دیا کیونکہ بندش نے وسطی ایشیا کے ممالک کو ان کی برآمدات متاثر کی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.