قومی روڈمیپ برائے ایس ایم ایز اور ورکر فارملائزیشن کا آغاز
- روڈمیپ ایک سالہ مشاورت اور تحقیق کے بعد تیار کیا گیا، جس میں متعدد قومی اداروں نے حصہ لیا
پاکستان نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور سمیڈا کے اشتراک سے قومی روڈمیپ برائے ایس ایم ایز اور محنت کشوں کی فارملائزیشن باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے، جس کے ساتھ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
یہ روڈمیپ ایک سالہ مشاورت اور تحقیق کے بعد تیار کیا گیا، جس میں متعدد قومی اداروں نے حصہ لیا۔ منصوبہ کاروبار کے اندراج کو آسان بنانے، سپلائی چین کی شفافیت بڑھانے، لیبر کمپلائنس کو مضبوط کرنے اور ایس ایم ایز کو تیزی سے بدلتی عالمی و ماحولیاتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیتا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کے مطابق ایس ایم ایز اور ورکرز کی فارملائزیشن قومی ترقی کے لیے بنیادی سنگِ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر منظم معیشت عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتی، جبکہ یورپی یونین کی نئی تجارتی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہونا پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ روڈمیپ کا مقصد بزنس رجسٹریشن کو سادہ بنا کر ’’ایزی بزنس ایکٹ‘‘ کے تحت ایک قومی رجسٹری قائم کرنا ہے۔
انہوں نے پنجاب اور سندھ میں نئے لیبر کوڈز اور ڈیجیٹل لیبر کنٹریکٹ پورٹل کو فارمل معیشت کی جانب بڑی پیش رفت قرار دیا۔
ہارون اختر نے کہا کہ فارملائزیشن سے عالمی منڈیوں تک رسائی، مالی سہولتیں، ڈیجیٹل ادائیگیاں اور کریڈٹ اسکورنگ جیسے فوائد کھلیں گے۔ یہ عمل حکومت ہی نہیں بلکہ ریاست، نجی شعبے، مزدوروں اور ترقیاتی شراکت داروں کا مشترکہ سماجی معاہدہ ہے۔
آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول اور اسمیڈا کی سی ای او نادیہ جہانگیر سیٹھ نے اس اقدام کو پاکستان کی مسابقت، پیداواری صلاحیت اور ورکرز کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن قدم قرار دیا۔ روڈمیپ رجسٹریشن کی سادگی، ریگولیٹری ہم آہنگی، ڈیجیٹل ٹولز، ٹریس ایبلٹی، اور سپلائی چین ذمہ داری جیسے عملی اقدامات پر مشتمل ہے، جو جی ایس پی پلس اور عالمی معیار سے مطابقت کو مضبوط بنائے گا۔

























Comments
Comments are closed.