مارکیٹ نے آسان منافع کا سہانا دور ختم کر دیا
- مارکیٹ سبق سکھاتی ہے۔ سیاست دان آہستہ سیکھتے ہیں، اور ایک بار پھر بانڈ مارکیٹ امتحان لے رہی ہے
مارکیٹوں کی ایک عادت ہے کہ وہ ایک ہی سبق بار بار پڑھاتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ کوئی اسے سمجھ ہی لے۔ ایک بار پھر بانڈ مارکیٹ استاد بنی بیٹھی ہے اور سیاست دان کمرۂ جماعت کے سب سے سست طلبہ ثابت ہو رہے ہیں۔ طویل المدتی ییلڈز خاموشی سے بڑھ کر 2009 کی سطحوں تک پہنچ گئی ہیں، ایسے وقت میں جب مرکزی بینک اب بھی ’’ڈیٹا پر انحصار‘‘ اور ’’محتاط توازن‘‘ کی پرانی زبان بول رہے ہیں۔ شاید اصل کہانی اب افراطِ زر کے اعداد و شمار یا لیبر مارکیٹ کی باریکیوں سے کم اور بجٹ خساروں، سیاست اور جنگی اخراجات کے بڑھتے ہوئے اثرات سے زیادہ جڑی ہے، جو ٹرم پریمیئم میں جھلک رہے ہیں۔
ہر کوئی پاول اور لاگارڈ کی بات کرتا ہے، لیکن کیا واقعی طویل المدتی مارکیٹیں ڈونلڈ ٹرمپ، کیون ہیسیٹ، مالی خساروں اور دفاعی اخراجات کی بنیاد پر نہیں چل رہیں؟ امریکہ، یورپ، جاپان اور آسٹریلیا میں طویل مدتی سرکاری بانڈ ییلڈز تیزی سے اوپر گئیں، جبکہ شارٹ اینڈ اس توقع کے ساتھ نیچے سرکتا رہا کہ فیڈ ایک اور کٹ دے گا۔ عین اس وقت جب امریکی فیڈ اپنی تازہ ترین پالیسی میٹنگ میں داخل ہو رہا تھا، 30 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈز کئی ماہ کی بلند ترین سطحوں کے قریب تھیں، یورو زون کی ییلڈز اوپر جا رہی تھیں، اور مارکیٹیں یورپی سینٹرل بینک سے مزید کٹوتیوں کے امکانات تقریباً ختم سمجھ رہی تھیں، جاپان میں شرحِ سود بڑھنے اور آسٹریلیا میں مزید سختی کی قیمت لگا رہی تھیں۔ تو کیا معاملہ صرف اتنا ہے کہ شارٹ اینڈ اب بھی مرکزی بینکوں کی بات سن رہا ہے، جبکہ لانگ اینڈ آگے بڑھ چکا ہے؟
مالیاتی میڈیا اسے “ڈس اپوائنٹمنٹ ٹریڈ” کہہ رہا ہے، یعنی سرمایہ کاروں کا یہ احساس کہ شرحِ سود میں کمی کا جو چکر انہوں نے قیمتوں میں شامل کر رکھا تھا، وہ ابتدا سے ہی محدود اور مختصر ہونا تھا۔ دنیا نے خود کو تقریباً یہ یقین دلوا ہی لیا تھا کہ 2025 کے اوائل کی کٹوتیوں نے کسی حد تک بحرانِ مالیات سے پہلے والی معمول کی حالت بحال کر دی ہے۔ لیکن بانڈ مارکیٹ مؤدبانہ مگر دوٹوک انداز میں کہتی دکھائی دیتی ہے کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
امریکی پس منظرِ مالیات خود بہت کچھ سمجھا دیتا ہے۔ امریکہ اس وقت تقریباً 1.8 ٹریلین ڈالر کے بجٹ خسارے پر چل رہا ہے۔ یورپ دوبارہ اسلحہ بندی کر رہا ہے، جرمنی ریکارڈ دفاعی آرڈرز کی تیاری میں ہے۔ جاپان وبا کے بعد اپنی سب سے بڑی مالیاتی توسیع متعارف کروا رہا ہے۔ برطانیہ طویل المدتی مدت میں زیادہ قرض لے رہا ہے، بالکل اُس وقت جب سرمایہ کار مدت کے انتخاب میں پہلے سے زیادہ محتاط ہیں۔ ظاہر ہے یہ خطرات محض نظری نہیں۔ کیا یہ پیداوارِ بانڈ میں اضافے کی صورت میں براہِ راست اس وقت ظاہر نہیں ہوتے جب افراطِ زر بھی پوری طرح ہدف تک واپس نہیں آیا، اور خود امریکی فیڈ کی آئندہ خودمختاری اور قیادت پر سوالات اٹھ رہے ہیں؟
اسی تناظر میں یہ حیرانی کی بات نہیں کہ طویل المدتی ییلڈز شرحِ سود میں ایک صاف، سیدھی کٹوتیوں کے چکر کے مطابق چلنے سے انکار کر رہی ہیں۔ مارکیٹ کو دوبارہ یہ طے کرنا پڑ رہا ہے کہ ’’رسک فری‘‘ ہونے کا مطلب آخر ہے کیا، جب انہی بانڈز کے جاری کنندگان دنیا کے سب سے بڑے قرض لینے والے بھی ہیں۔ یوں سمجھیں مارکیٹ خاموشی سے ’’محفوظ اثاثے‘‘ کی قیمت نئے سرے سے لکھ رہی ہے—سرکاری بانڈز کو خالص پناہ گاہ کے بجائے ایک ایسا اثاثہ بنا رہی ہے جس میں افراطِ زر، سیاست اور مالیاتی بے ترتیبی کے خطرات واضح طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ مرکزی بینک اب بھی ’’فارورڈ گائیڈنس‘‘ کی پرانی رسومات ادا کر رہے ہیں۔ مگر کیا ییلڈ کَرو پہلے ہی ایک مختلف دور کا اشارہ دے رہا ہے؟
ابھی تک ایکویٹی مارکیٹ کا ردِعمل یہ ہے کہ جیسے اسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا۔ اے آئی کے جوش اور وافر لیکویڈیٹی کی بدولت عالمی شیئرز ریکارڈ سطحوں کے قریب ہیں۔ لیکن جن شرحِ رعایت (ڈسکاؤنٹ ریٹ) پر ان قدروں کو جواز دیا جاتا ہے، وہ بڑھ چکی ہے۔ ممکن ہے کہ ایکویٹی رسک پریمیئم بالکل اسی وقت سکڑ رہا ہو جب آمدنی کی توقعات، عالمی نمو اور جغرافیائی سیاست دو سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہیں۔ یہ تفاوت جتنی دیر برقرار رہے گی، بعد میں اس کی صفائی اتنی ہی تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
اثرات دور تک پھیلتے ہیں۔ طویل ییلڈز میں اضافہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کیلئے قرض گیری کی لاگت بڑھا دیتا ہے، کیونکہ ان کے کارپوریٹ اور خودمختار قرض کی قیمت زیادہ تر امریکی ٹریژریز اور دیگر بڑے بینچ مارکس سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ کارپوریٹ کریڈٹ اسپریڈز پر دباؤ ڈالتا ہے اور کمزور بیلنس شیٹس کیلئے ری فنانسنگ کو مشکل بناتا ہے۔ یہ رہائشی قرضوں کو مہنگا کرتا ہے کیونکہ مارگیج ریٹس نئی ییلڈ فضاء میں ایڈجسٹ ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی جب مرکزی بینک شرحیں کم کرتے ہیں تو مختصر المدتی ییلڈز میں گراوٹ کا مطلب ہے کہ حکومتی مختصر مدت کے بلز پر ملنے والا 5 فیصد ’’رسک فری‘‘ منافع، جس سے پنشن فنڈز اور انشوررز نے وقتی فائدہ اٹھایا، اب کم ہوتا جا رہا ہے۔ مقروضوں کیلئے طویل سرے پر لاگت بڑھ گئی، بچت کرنے والوں کیلئے مختصر سرے پر آمدنی گھٹ گئی۔ کیا یہ وہ نایاب مرحلہ بنتا جا رہا ہے جہاں دونوں طرف والے نقصان میں ہوں؟
آمدنی پر مرکوز سرمایہ کاروں کیلئے یہ ’’عظیم دباؤ برآمدنی‘‘ پہلے ہی انتخاب واضح کر رہا ہے۔ جب شارٹ اینڈ ییلڈ گرتی ہے اور لانگ اینڈ پر ترقی، افراطِ زر اور مالیاتی خطرات کی قیمت جھلکتی ہے، تو پورٹ فولیوز کو اپنے ہدف برقرار رکھنے کیلئے زیادہ رسک والے گوشوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے،ہائی ییلڈ بانڈز، ابھرتی منڈیوں کا قرض، سیکیورٹائزڈ مصنوعات اور پرائیویٹ کریڈٹ کی طرف۔ عوامی بازاروں میں غلطی کی گنجائش اس پُرسکون سطح کے مقابلے میں کہیں کم ہے جو اوپر سے دکھائی دیتی ہے۔
یہ تمام سلسلہ اُن زرمبادلہ مارکیٹ اور ابھرتی ہوئیں معیشتوں سے متعلق رجحانات، مسائل اور مالیاتی حالات سے جڑ جاتا ہے جو سال بھر بنتے رہے ہیں۔ جب عالمی طویل مدتی ییلڈز خساروں اور سیاست کے زور پر بڑھتی ہیں تو ابھرتی ہوئی منڈیوں کی وہ کرنسیاں جن کی بیرونی پوزیشن کمزور ہو، سب سے پہلے جھٹکا محسوس کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کی روپیہ، جو پہلے ہی ٹیرف، تجارتی بے یقینی اور سرمایہ کے اخراج سے دباؤ میں ہے، اب اس عالمی فنانسنگ دباؤ کی ایک نئی تہہ کا سامنا کر رہی ہے۔ دیگر ابھرتی ہوئی کرنسیاں فی الحال نسبتاً مضبوط ہوں، وہ بھی محفوظ نہیں۔ تو کیا واقعی حیرانی ہوگی اگر سیاسی غلطیوں کا نیا سلسلہ براہِ راست ٹرم پریمیئم کے ذریعے ابھرتی معیشتوں کی فنانسنگ لاگت اور کرنسیوں تک منتقل ہو؟
اگر مارکیٹ نے ایک بات بار بار ثابت کی ہے تو وہ یہ کہ اتار چڑھاؤ اور ہیجنگ کے آلات اکثر سرخیوں سے پہلے ہی نئے دور کی آمد کو بھانپ لیتے ہیں۔ جب ٹرم پریمیئم بڑھتا ہے، جب کَرو مالیاتی دباؤ کے باعث کھڑی ہوتی ہے، اور جب مرکزی بینک غالب کے بجائے محدود ہوتے دکھائی دیں، تو تحفظ کی قیمت خود کو ڈھال لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا سرمایہ کار اسے بانڈ مارکیٹ کا ایک عارضی جھونکا سمجھیں گے یا ایک مستقل تبدیلی — ایسی دنیا میں جہاں مالیاتی توسیع اور مرکزی بینکوں کی متنازع خودمختاری اب معمول بنتی جا رہی ہے، ’’رسک فری‘‘ اثاثوں کی قیمت لگانے کے طریقے میں ایک دیرپا موڑ۔
گزشتہ دو سال، پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو، شاید ایک مختصر خواب سا منظر لگے جس میں شرحِ سود میں کمی، بظاہر کم اتار چڑھاؤ اور زیادہ منافع ایک ساتھ طویل عرصے تک برقرار رہ سکے۔ ممکن ہے کہ یہ مرحلہ اب ختم ہونے کی جانب بڑھ رہا ہو، لیکن کسی شدید بحران کے بغیر، بلکہ آہستہ آہستہ اور مستقل طور پر یہ طے کر کے کہ پیسہ وقت کے ساتھ واقعی کتنا مہنگا ہوتا ہے۔ عالمی بانڈ مارکیٹ لگتا ہے کہ دونوں طرف سے دباؤ بڑھا رہی ہے: طویل ییلڈز بڑھ رہی ہیں کیونکہ خطرے کی قیمت دوبارہ لگائی جا رہی ہے، جبکہ شارٹ ییلڈز گرتی جا رہی ہیں کیونکہ عارضی فائدہ جو بچت کرنے والوں کو ملا تھا، واپس لیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو شاذ و نادر ہی بغیر کسی اثر کے طویل عرصے تک قائم رہتا ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب کس قدر خاموشی سے ہوا۔ نہ کوئی بحران کی سرخی، نہ بے ترتیبی والے نیلامی کے مناظر، نہ کسی مرکزی بینک کی ڈرامائی پالیسی تبدیلی؛ صرف ییلڈز میں بتدریج اضافہ اور اس کے ساتھ وہ فرق جو عہدیدار اپنی پریس کانفرنسز میں بیان کرتے ہیں اور جو اب کَرو مستقبل کے بارے میں اشارہ دے رہی ہے، میں بڑھ رہا ہے۔
کیا اس سال عالمی مالیات میں سب سے اہم تبدیلی پس منظر میں وقوع پذیر ہو رہی ہے، جبکہ توجہ کہیں اور مرکوز ہے؟
مارکیٹ سبق سکھاتی ہے۔ سیاست دان آہستہ سیکھتے ہیں۔ اور ایک بار پھر، بانڈ مارکیٹ امتحان لے رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.