BR100 Decreased By (-0.21%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Increased By (0.02%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.16 (0.28%)
BIPL 26.79 Decreased By ▼ -0.25 (-0.92%)
BOP 33.40 Decreased By ▼ -0.28 (-0.83%)
CNERGY 10.40 Increased By ▲ 0.59 (6.01%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.52 (-2.81%)
DGKC 209.00 Increased By ▲ 1.13 (0.54%)
FABL 98.50 Decreased By ▼ -0.40 (-0.4%)
FCCL 53.56 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
FFL 16.39 Decreased By ▼ -0.29 (-1.74%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
HBL 302.79 Decreased By ▼ -1.60 (-0.53%)
HUBC 219.29 Increased By ▲ 1.18 (0.54%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.16 (-1.5%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 29.43 Increased By ▲ 0.32 (1.1%)
MLCF 96.20 Increased By ▲ 0.70 (0.73%)
OGDC 317.05 Decreased By ▼ -0.89 (-0.28%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.59 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
PIOC 295.01 Increased By ▲ 15.00 (5.36%)
PPL 219.41 Decreased By ▼ -0.33 (-0.15%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.50 Decreased By ▼ -0.99 (-0.92%)
SSGC 28.95 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.23 Increased By ▲ 0.13 (1.07%)
TRG 60.10 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
UNITY 10.00 Decreased By ▼ -0.11 (-1.09%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

جامعہ کراچی نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیا

  • نہ صرف ڈگری اور مارک شیٹ پر درج انرولمنٹ نمبرز جعلی تھے بلکہ دیگر دستاویزات میں بھی ردو بدل کی گئی تھی ، ناظم امتحانات
شائع اپ ڈیٹ

کراچی یونیورسٹی (کے یو) نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیاہے۔آج نیوز کے مطابق یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے بتایا کہ ڈگری اور مارک شیٹ پر نہ صرف انرولمنٹ نمبر جعلی تھے بلکہ دیگر دستاویزات میں بھی ردوبدل کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) میں جمع کرائی گئی کراچی یونیورسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ انرولمنٹ نمبر 5968/87 دراصل امتیاز احمد نامی طالب علم کو جاری کیا گیا تھا۔

مبینہ طور پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے جعلسازی کے ذریعے ایل ایل بی پارٹ II کا نمبر 7184/87 استعمال کیا۔ اس دوران مارک شیٹس اور ڈگری حاصل کرنے کے لیے نام اور انرولمنٹ نمبرز بار بار تبدیل کیے گئے۔

مزید کہا گیا کہ شہری عرفان مظہر کی درخواست پر یونیورسٹی نے ازسرِ نو انکوائری شروع کی۔ کنٹرولر امتحانات نے ڈگری اور مارک شیٹس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوہرا انرولمنٹ نمبر ہونا ناممکن ہے۔

گورنمنٹ اسلامیہ کالج کے پرنسپل نے بھی تصدیق کی کہ 1984 سے 1991 تک جسٹس طارق محمود جہانگیری اس کالج کے طالب علم نہیں تھے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈگری جاری کرنا یونیورسٹی کا اختیار ہے اور اس معاملے میں ایچ ای سی کا کوئی کردار نہیں۔ ایچ ای سی نے واضح کیا کہ چونکہ کراچی یونیورسٹی ڈگری کو تسلیم نہیں کرتی، لہٰذا ایچ ای سی بھی اسے تسلیم نہیں کر سکتی۔

یہ پیش رفت چند روز بعد سامنے آئی ہے جب آئی ایچ سی نے ایچ ای سی کے ذریعے کراچی یونیورسٹی سے جسٹس جہانگیری کی لاء ڈگری کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

یونیورسٹی آف کراچی (کے یو) نے 26 ستمبر کو آئی ایچ سی کے اس جج کی قانون کی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے ان پر تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔

کیس کا پس منظر

جولائی 2024 میں میاں داؤد نے آئی ایچ سی میں کو وارنٹو کی درخواست دائر کی، جس میں جسٹس جہانگیری کی ‘جعلی قانون ڈگری کی تحقیقات کی استدعا کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر غلط ڈگری کی وجہ سے جسٹس جہانگیری کی تقرری غیر آئینی ہے۔

اس کے بعد ستمبر میں آئی ایچ سی کے ایک بینچ نے سینئر جج کو اس وقت تک عدالتی فرائض سے روک دیا جب تک سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اس معاملے پر فیصلہ نہیں کرتی۔

جسٹس جہانگیری نے 19 ستمبر کو آئی ایچ سی ڈویژن بینچ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دیوانی درخواست دائر کی۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ یہ حکم واضح طور پر غیر قانونی، عدالتی تاریخ میں بے مثال اور عدلیہ کی آزادی پر شدید ضرب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکم آئین کے آرٹیکل 189 اور 209(7) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 25 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران جسٹس جہانگیری نے کہا تھا کہ پہلی بار کوئی ہائی کورٹ جج بطور ملزم کٹہرے میں کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

جسٹس جہانگیری نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ڈگری بالکل درست ہے اور انہوں نے خود امتحانات دیے تھے اور 34 سالہ سروس میں ان پر کبھی کرپشن کا الزام تک نہیں لگا۔

مقدمہ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس سمن رفعت، جسٹس کے کے آغا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور جامعہ کراچی کے وکلاء شامل تھے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئی ایچ سی کی ویب سائٹ پر جسٹس جہانگیری کے پروفائل کے مطابق انہوں نے 1991 میں یونیورسٹی آف کراچی سے الحاق شدہ گورنمنٹ اسلامیہ لاء کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔

جسٹس جہانگیری اُن چھ آئی ایچ سی ججز میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر ایجنسیوں خصوصاً آئی ایس آئی کی عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

اس خط کے بعد کراچی یونیورسٹی میں ایک شہری نے آئین کے آرٹیکل 19 اور سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت جسٹس جہانگیری کا تعلیمی ریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست دائر کی۔

جسٹس جہانگیری، ٹیریان وائٹ کو عمران خان کی بیٹی ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دینے کی درخواست مسترد کرنے والے آئی ایچ سی کے تین رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے۔

Comments

Comments are closed.