BR100 Decreased By (-0.62%)
BR30 Decreased By (-0.28%)
KSE100 Decreased By (-0.5%)
KSE30 Decreased By (-0.44%)
BAFL 56.40 Decreased By ▼ -0.34 (-0.6%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.29 Decreased By ▼ -0.39 (-1.16%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.48 (4.89%)
DFML 18.09 Decreased By ▼ -0.43 (-2.32%)
DGKC 205.49 Decreased By ▼ -2.38 (-1.14%)
FABL 96.95 Decreased By ▼ -1.95 (-1.97%)
FCCL 52.81 Decreased By ▼ -0.71 (-1.33%)
FFL 16.39 Decreased By ▼ -0.29 (-1.74%)
GGL 23.34 Decreased By ▼ -0.23 (-0.98%)
HBL 302.00 Decreased By ▼ -2.39 (-0.79%)
HUBC 217.25 Decreased By ▼ -0.86 (-0.39%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.21 (-1.97%)
KEL 7.21 Decreased By ▼ -0.14 (-1.9%)
LOTCHEM 28.80 Decreased By ▼ -0.31 (-1.06%)
MLCF 93.74 Decreased By ▼ -1.76 (-1.84%)
OGDC 318.80 Increased By ▲ 0.86 (0.27%)
PAEL 41.13 Decreased By ▼ -0.70 (-1.67%)
PIBTL 16.36 Decreased By ▼ -0.14 (-0.85%)
PIOC 281.01 Increased By ▲ 1.00 (0.36%)
PPL 222.00 Increased By ▲ 2.26 (1.03%)
PRL 48.55 Increased By ▲ 3.96 (8.88%)
SNGP 106.10 Decreased By ▼ -1.39 (-1.29%)
SSGC 28.25 Decreased By ▼ -0.68 (-2.35%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 12.25 Increased By ▲ 0.15 (1.24%)
TRG 59.20 Decreased By ▼ -0.83 (-1.38%)
UNITY 9.90 Decreased By ▼ -0.21 (-2.08%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
پاکستان

جنگی ڈرونز، ترکیہ کا پاکستان میں اسمبلی فیسلٹی قائم کرنے کا منصوبہ

  • انقرہ مجوزہ انتظام کے تحت اپنے جدید اسٹیلتھ اور طویل پرواز والے ڈرونز پاکستان میں اسمبل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

ترکیہ نے پاکستان میں اپنے جنگی ڈرونز کی اسمبلی کی سہولت قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اور اکتوبر سے جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، یہ بات ہفتہ کو ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتائی گئی۔

ترکیہ کے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انقرہ مجوزہ انتظام کے تحت اپنے جدید اسٹیلتھ اور طویل پرواز والے ڈرونز پاکستان میں اسمبل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس اقدام سے پاکستان کو اعلیٰ دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی جبکہ ترکیہ کے عالمی اسلحہ منڈی میں اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں شامل ترکیہ کے عہدیداروں نے معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

صدر رجب طیب اردوان کی پالیسی کا ایک اہم ستون عالمی سطح پر ترکیہ کی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانا ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت ترکیہ نے رواں سال انڈونیشیا کو لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے اور سعودی عرب و شام کو مزید اسلحہ فروخت کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی دفاعی برآمدات رواں سال کے پہلے 11 مہینوں میں 30 فیصد بڑھ کر 7.5 ارب امریکی ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں، جیسا کہ دفاعی صنعت کے سربراہ ہلوک گورگن نے بتایا۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے۔

انقرہ پہلے ہی پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تعمیر کر رہا ہے، پاکستان کے درجنوں ایف-16 طیاروں کو اپ گریڈ کر چکا ہے، اور امید کرتا ہے کہ اسلام آباد اس کے اگلے نسل کے لڑاکا طیارے کے پروگرام ”کان“ میں بھی شامل ہوگا۔

دونوں ممالک ٹی ایف ایکس (ترکش فائٹر – ایکسپیریمنٹل) منصوبے پر بھی کئی برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ 2022 میں ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نیسٹ) تحقیق اور ڈیزائن کے شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اسی مقصد کے لیے ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز نے 2019 میں پاکستان میں اپنا پہلا دفتر بھی کھولا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے۔ 2021 اور 2022 میں ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز نے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کے ساتھ انکا یو اے وی کے پرزہ جات کی مشترکہ تیاری کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جو 30 ہزار فٹ کی بلندی پر 24 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے اور 250 کلوگرام تک وزن اٹھا سکتا ہے۔

ترکیہ پاکستان کو 30 ٹی-129 اٹیک ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کے لیے 1.5 ارب امریکی ڈالر کے معاہدے پر بھی کام کر رہا ہے، اگرچہ یہ ڈیل کچھ عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

پاکستان میں ڈرون کی اسمبلی سہولت کا قیام دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس سے ایک طرف پاکستان کو جدید یو اے وی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی جبکہ دوسری طرف ترکیہ اپنی بڑھتی ہوئی دفاعی برآمدات کے اہداف کے حصول میں مزید آگے بڑھ سکے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے — بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپ کے بعد تناؤ میں کمی نہیں آئی، جبکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہیں کیونکہ افغان طالبان نے پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیاں روکنے سے انکار کیا ہے۔

Comments

Comments are closed.